مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ سُجُودِ الشُّكْرِ . باب: سجود شکر کا بیان
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمْ يَبْقَ مِنْ طَوَاغِيتَ الْجَاهِلِيَّةِ إِلَّا بَيْتُ ذِي الْخَلَصَةِ فَمَنْ يُنْتَدَبُ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ؟ " قَالَ جَرِيرٌ : أَنَا ، وَانْتَدَبَ مَعَهُ سَبْعَمِائَةٍ كُلُّهُمْ مِنْ أَحْمُسَ فَلَمْ يَفْجَأِ الْقَوْمَ إِلَّا بِنَوَاصِي الْخَيْلِ فَقَتَلُوا وَحَرَقُوا الْبَيْتَ وَكَتَبُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبِشَارَةٍ وَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْهُ إِلَّا كَالْبَعِيرِ الْأَجْرَبِ فَخَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاجِدًا ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأَحْمُسَ فِي خَيْلِهَا وَرِجَالِهَا " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارِ السُّجُودِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَجَمَاعَةٌ كَثِيرَةٌ ، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ : صَدُوقٌ كَثِيرُ الْخَطَأِ وَالْوَهْمِ . ¤سیدنا جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : زمانہ جاہلیت کے بتوں میں سے صرف بیت ذی الخلصہ رہ گیا ہے ، تو کون اللہ اور اس کے رسول کی خاطر اس کو ختم کرے گا ؟ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ، تو وہ اپنے ساتھ سات سو افراد کو لے کے گئے جن کا سب تعلق احمس قبیلے سے تھا وہ لوگ اچانک ان کے سروں پر پہنچ گئے انہوں نے لوگوں کو قتل بھی کیا ، اور اس گھر کو جلا دیا انہوں نے خوشخبری کی خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحریری طور پر بھیجی اور آپ کو یہ بتایا : اب اس گھر کی حالت یوں ہے ، جس طرح رسوا کیا ہوا کوئی اونٹ ہوتا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جس طرح کوئی خارش زدہ اونٹ ہوتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے پھر آپ نے یہ دعا کی : اے اللہ ! احمس قبیلے کے گھڑ سواروں اور پیادہ افراد کو برکت نصیب فرما ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں
یہ روایت اس کی مانند منقول ہے ، جس میں اختصار کے ساتھ سجدہ کرنے کا ذکر ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عمارہ ہے ، جسے شعبہ اور ایک بڑی جماعت نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے عمرو بن علی کہتے ہیں : یہ صدوق ہے ، لیکن بکثرت غلطی کرتا ہے ، اور بکثرت وہم کا شکار ہوتا ہے ۔