مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ سُجُودِ الشُّكْرِ . باب: سجود شکر کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَوَجَّهَ نَحْوَ مَشْرَبَتِهِ فَدَخَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَخَرَّ سَاجِدًا فَأَطَالَ السُّجُودَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ اللَّهَ قَبَضَ نَفْسَهُ فِيهَا ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " قُلْتُ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ : " مَا شَأْنُكَ ؟ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ سَجَدْتَ سَجْدَةً خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ قَدْ قَبَضَ نَفْسَكَ فِيهَا قَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَانِي فَبَشَّرَنِي فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَسَجَدْتُ لِلَّهِ شُكْرًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے آپ کا رخ اپنے بالا خانے کی طرف تھا آپ اس میں گئے آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا ، اور سجدے میں چلے گئے آپ نے طویل سجدہ کیا یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالی نے سجدے کے دوران آپ کی جان کو قبض کر لیا ہے میں آپ کے قریب آیا تو آپ نے اپنا سر اٹھایا آپ نے دریافت کیا : کون ہے ؟ میں نے عرض کی : عبدالرحمن آپ نے دریافت کیا : تمہیں کیا کام ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ایسا سجدہ کیا ہے کہ میں اس اندیشے کا شکار ہو گیا کہ کہیں اللہ تعالیٰ نے اس سجدے کے دوران آپ کی جان کو قبض نہ کر لیا ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے یہ خوشخبری دی اور بتایا : اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : جو شخص آپ پر درود بھیجے گا میں اس پر رحمت نازل کروں گا ، اور جو شخص آپ پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلامتی نازل کروں گا ، تو میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لئے یہ سجدہ کیا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔