حدیث نمبر: 3715
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ : غَابَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَنْ يَخْرُجَ فَلَمَّا خَرَجَ سَجَدَ سَجْدَةً فَظَنَنَّا أَنَّ نَفْسَهُ قَدْ قُبِضَتْ فِيهَا فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ : " إِنَّ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - اسْتَشَارَنِي فِي أُمَّتِي مَاذَا أَفْعَلُ بِهِمْ ؟ فَقُلْتُ : مَا شِئْتَ أَيْ رَبِّ هُمْ خَلْقُكَ وَعِبَادُكَ فَاسْتَشَارَنِي الثَّانِيَةَ فَقُلْتُ لَهُ كَذَلِكَ ، فَقَالَ : لَا أُحْزِنُكَ فِي أُمَّتِكَ يَا مُحَمَّدُ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِمَّا فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ أَوْ فِي الْمَنَاقِبِ فِي فَضْلِ الْأُمَّةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے اوجھل ہو گئے آپ تشریف نہیں لائے یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ تشریف نہیں لائیں گے پھر آپ تشریف لائے اور سجدے میں چلے گئے ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید اس سجدے کے دوران آپ کی روح قبض ہو گئی ہے ، جب آپ نے سر اٹھایا تو آپ نے فرمایا : میرے پروردگار نے میری امت کے بارے میں مجھ سے مشورہ لیا کہ میں ان کے ساتھ کیا کروں ؟ تو میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو جو چاہے وہ کر ! وہ تیری مخلوق ہیں ، اور تیرے بندے ہیں پروردگار نے دوسری مرتبہ مجھ سے مشورہ لیا تو میں نے پھر اسی طرح کہ دیا پروردگار نے فرمایا : اے محمد ! امیں تمہیں تمہاری امت کے بارے میں غمگین نہیں کروں گا“ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اگر اللہ نے چاہا تو
یہ روایت مکمل طور پر آگے آئے گی جو یا تو نبوت کی علامات سے متعلق باب میں آئے گی یا امت کی فضیلت سے متعلق باب میں کتاب المناقب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3715
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف