مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابٌ فِيمَنْ يَقْرَأُ السَّجْدَةَ وَهُوَ مَاشٍ . باب: جو شخص چلتے ہوئے آیت سجدہ تلاوت کرتا ہے
عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ : كُنَّا نَقْرَأُ عَلَى أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ وَهُوَ يَمْشِي فَإِذَا مَرَرْنَا بِسَجْدَةٍ كَبَّرَ وَكَبَّرْنَا وَسَجَدَ وَسَجَدْنَا ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيُكَبِّرُ وَيَقُولُ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَنَقُولُ : عَلَيْكُمُ السَّلَامُ . ¤ وَزَعَمَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهِمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ فِيهِ كَلَامٌ لِاخْتِلَاطِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عطاء بن سائب بیان کرتے ہیں : ہم عبدالرحمن سلمی کے سامنے تلاوت کیا کرتے تھے وہ اس وقت چل رہے ہوتے تھے ، جب ہم آیت سجدہ تلاوت کرتے تھے تو وہ بھی تکبیر کہتے تھے ، اور ہم بھی تکبیر کہتے تھے ، اور وہ بھی اشارے کے ذریعے سجدہ کر لیتے تھے ، اور ہم بھی اشارے کے ذریعے سجدہ کر لیتے تھے ، اور پھر وہ اپنا سر اٹھاتے ہوئے تکبیر کہتے تھے ، اور یہ کہتے تھے السلام علیکم تو ہم بھی یہ کہتے تھے علیکم السلام ابوعبدالرحمن کا یہ بیان کرنا ہے : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ عطاء بن سائب نامی راوی کے اس کے اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے کلام کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔