مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ صَلَاةِ التَّسْبِيحِ . باب: صلوۃ التسبیح کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ : " يَا غُلَامُ أَلَا أَحْبُوكَ ؟ أَلَا أَنْحَلُكَ ؟ أَلَا أُعْطِيكَ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : بَلَى ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : فَظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيَقْطَعُ لِي قِطْعَةً مِنْ مَالٍ فَقَالَ : " أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ تُصْلِيهِنَّ فِي كُلِّ يَوْمٍ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِي كُلِّ سَنَةٍ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِي دَهْرِكَ مَرَّةً ، تُكَبِّرُ فَتَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَسُورَةً ، ثُمَّ تَقُولُ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً ثُمَّ تَرْكَعُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ثُمَّ تَرْفَعُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ، ثُمَّ تَرْفَعُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ، ثُمَّ تَفْعَلُ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا مِثْلَ ذَلِكَ ، فَإِذَا فَرَغْتَ قُلْتَ بَعْدَ التَّشَهُّدِ وَقَبْلَ السَّلَامِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَوْفِيقَ أَهْلِ الْهُدَى وَأَعْمَالَ أَهْلِ الْيَقِينِ وَمُنَاصَحَةَ أَهْلِ التَّوْبَةِ وَعَزْمَ أَهْلِ الصَّبْرِ وَجِدَّ أَهْلِ الْخَشْيَةِ وَطَلَبَ أَهْلِ الرَّغْبَةِ وَتَعَبُّدَ أَهْلِ الْوَرَعِ وَعِرْفَانَ أَهْلِ الْعِلْمِ حَتَّى أَخَافَكَ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مَخَافَةً تَحْجِزُنِي عَنْ مَعَاصِيكَ حَتَّى أَعْمَلَ بِطَاعَتِكَ عَمَلًا أَسْتَحِقُّ بِهِ رِضَاكَ وَحَتَّى أُنَاصِحَكَ بِالتَّوْبَةِ خَوْفًا مِنْكَ وَحَتَّى أُخْلِصَ لَكَ النَّصِيحَةَ حُبًّا لَكَ وَحَتَّى أَتَوَكَّلَ عَلَيْكَ فِي الْأُمُورِ حُسْنَ ظَنٍّ بِكَ سُبْحَانَ خَالِقِ النَّارِ فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ذُنُوبَكَ صَغِيرَهَا وَكَبِيرَهَا وَقَدِيمَهَا وَحَدِيثَهَا وَسِرَّهَا وَعَلَانِيَتَهَا وَعَمْدَهَا وَخَطَأَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : اے لڑکے ! کیا میں تمہیں کچھ نہ دوں ؟ کیا میں تمہیں عطیہ نہ دوں ؟ کیا میں تمہیں تحفہ نہ دوں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، راوی کہتے ہیں : میں نے یہ گمان کیا کہ شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مال عطا کریں گے ، آپ نے ارشاد فرمایا : چار رکعات تم نے روزانہ پڑھنی ہیں ، اگر تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے ، تو ہفتے میں ایک مرتبہ پڑھ لینی ہیں ، اگر اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتے ، تو پھر مہینے میں ایک مرتبہ پڑھ لینی ہیں ، اگر اس کی بھی اسطاعت نہیں رکھتے ، تو سال میں ایک مرتبہ پڑھ لینی ہیں ، اگر اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتے ، تو کبھی بھی ایک مرتبہ پڑھ لینا ، تم تکبیر پڑھ کے ایک مرتبہ سورت فاتحہ اور ایک سورت کی تلاوت کرنا ، پھر تم سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اکبر پندرہ مرتبہ پڑھنا ، پھر تم رکوع میں یہ کلمات دس مرتبہ پڑھنا ، پھر جب تم اُٹھو گے ، تو دس مرتبہ یہ کلمات پڑھنا ، پھر تم سجدے میں جاؤ گے ، تو یہ کلمہ دس مرتبہ پڑھنا ، پھر تم اُٹھو گے ، تو یہ کلمہ دس مرتبہ پڑھنا ، پھر تم اپنی نماز میں اسی طرح پڑھنا ، جب تم فارغ ہو جاؤ گے ، تو تشہد کے بعد سلام پھیرنے سے پہلے یہ پڑھنا : ” اے اللہ ! میں تجھ سے ہدایت والے لوگوں کی ، توفیق اور اہل یقین کے اعمال اور توبہ کرنے والوں کی خیرخواہی صبر کرنے والوں کے عزم خشیت والوں کی کوشش ، رغبت والوں کی طلب ، پرہیز گاروں کی عبادت گزاری ، اہل علم کے عرفان کا سوال کرتا ہوں ، تاکہ میں تجھ سے ڈرتا رہوں ، اے اللہ ! میں تجھ سے ایسا خوف مانگتا ہوں ، جو مجھے تیری نافرمانی سے روک دے ، یہاں تک کہ میں تیری فرمانبرداری سے متعلق ایسا عمل کروں ، جس کے ذریعے میں تیری رضامندی کا مستحق ہو جاؤں ، یہاں تک کہ میں تیری بارگاہ میں خالص توبہ کر لوں ، تیرے خوف کی وجہ سے ہو ، اور تیری محبت کی وجہ سے ، میں خیرخواہی کو تیرے لئے خالص کر لوں ، یہاں تک کہ تمام امور میں تجھ پر توکل کروں ، تیرے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہوئے ، تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے جہنم کو پیدا کرنے والے ! “ ( اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اے ابن عباس ! جب تم ایسا کر لو گے ، تو اللہ تعالیٰ تمہارے تمام چھوٹے بڑے ، پرانے نئے پوشیدہ اعلانیہ ، جان بوجھ کر اور غلطی سے کیے گئے ، ( تمام ) گناہوں کی مغفرت کر دے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔