مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ صَلَاةِ التَّسْبِيحِ . باب: صلوۃ التسبیح کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ الْعَبَّاسُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاعَةً لَمْ يَكُنْ يَأْتِيهِ فِيهَا فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عَمُّكَ عَلَى الْبَابِ ؟ قَالَ : " ائْذَنُوا لَهُ فَقَدْ جَاءَ لِأَمْرٍ " ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ : " مَا جَاءَ بِكَ يَا عَمَّاهُ هَذِهِ السَّاعَةَ وَلَيْسَتْ سَاعَتَكَ الَّتِي كُنْتَ تَجِيءُ فِيهَا ؟ " قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ذَكَرْتُ الْجَاهِلِيَّةَ وَجَهْلَهَا فَضَاقَتْ عَلَيَّ الدُّنْيَا بِمَا رَحُبَتْ فَقُلْتُ : مَنْ يُفَرِّجُ عَنِّي ؟ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ لَا يُفَرِّجُ عَنِّي أَحَدٌ إِلَّا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ثُمَّ أَنْتَ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَوْقَعَ هَذَا فِي قَلْبِكَ وَدِدْتُ أَنَّ أَبَا طَالِبٍ أَخَذَ نَصِيبَهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ ! ! " قَالَ : " أُخْبِرُكَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ قَالَ : " أُعْطِيكَ ؟ " قَالَ : قَالَ : " أَحْبُوكَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ قَالَ : " فَإِذَا كَانَتْ سَاعَةٌ تُصَلِّي فِيهَا لَيْسَتْ بَعْدَ الْعَصْرِ وَلَا بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ فَأَسْبِغْ طَهُورَكَ ثُمَّ قُمْ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَاقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ إِنْ شِئْتَ ، وَإِنْ شِئْتَ جَعَلْتَهَا مِنْ أَوَّلِ الْمُفَصَّلِ فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ السُّورَةِ فَقُلْ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لَهُ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً ، فَإِذَا رَكَعْتَ فَقُلْ ذَلِكَ عَشْرَ مَرَّاتٍ فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ فَقُلْ ذَلِكَ عَشْرَ مَرَّاتٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ نَافِعُ بْنُ هُرْمُزَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے کہ اس گھڑی میں وہ آپ کے پاس نہیں آیا کرتے تھے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! دروازے پر آپ کے چچا موجود ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انہیں اندر آنے کے لئے کہو ، وہ کسی ضروری معاملے کی وجہ سے تشریف لائے ہوں گے ، جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے چچا جان ! آپ اس وقت کیوں تشریف لائے ہیں ؟ آپ پہلے تو اس گھڑی میں تشریف نہیں لایا کرتے تھے ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میرے بھتیجے ! مجھے زمانہ جاہلیت اور اس کی جہالتیں یاد آ گئیں ، تو دنیا اپنی تمام تر کشادگی کے باوجود میرے لئے تنگ ہو گئی میں نے یہ سوچا کہ مجھے اس چیز سے نجات کیسے مل سکتی ہے ، تو مجھے یہ اندازہ ہو گیا کہ اس چیز سے مجھے کوئی نجات نہیں دے سکتا ، صرف اللہ تعالیٰ دے سکتا ہے ، یا پھر تم دے سکتے ہو ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے آپ کے دل میں یہ بات ڈال دی ہے میری تو یہ خواہش تھی کہ جناب ابوطالب بھی اپنا حصہ حاصل کر لیتے ، لیکن اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں آپ کو اس بارے میں بتاؤں ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں آپ کو ایک عطیہ دوں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں آپ کو کچھ دوں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی ایسا وقت ہو ، جس میں آپ نماز ادا کر سکتے ہوں ، یعنی وہ عصر کے بعد نہ ہو یا سورج نکلنے کے بعد نہ ہو ، تو آپ اس میں اچھی طرح وضو کریں ، پھر آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑے ہوں ، ، سورت فاتحہ پڑھیں ، پھر اگر ایک سورت چاہیں تو وہ پڑھ لیں اگر آپ چاہیں ، تو مفصل کی ابتدائی سورت پڑھ لیں ، جب آپ سورت پڑھ کر فارغ ہوں ، تو «سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر» پندرہ مرتبہ پڑھیں ، جب آپ رکوع میں جائیں ، تو دس مرتبہ پڑھیں ، جب آپ سر کو اٹھائیں ، تو دس مرتبہ پڑھیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نافع بن ہرمز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔