مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الِاسْتِخَارَةِ . باب: استخارہ کا بیان
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَمْرًا فَلْيَقُلِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ كَذَا وَكَذَا - فِي الَّذِي يُرِيدُ - خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَمَعِيشَتِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي وَإِلَّا فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ ثُمَّ قَدِّرْ لِيَ الْخَيْرَ أَيْنَمَا كَانَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص کوئی کام کرنے کا ارادہ کرے ، تو اُسے یہ پڑھنا چاہیے : ” اے اللہ ! میں تیرے علم کے ذریعے تجھ سے بھلائی طلب کرتا ہوں ، میں تجھ سے تیری قدرت کا سوال کرتا ہوں ، میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں ، بے شک تو قدرت رکھتا ہے ، اور میں قدرت نہیں رکھتا ہوں تو علم رکھتا ہے ، اور میں علم نہیں رکھتا ہوں ، تو غیوب کا بہت زیادہ علم رکھنے والا ہے ، اے اللہ ! اگر یہ یہ معاملہ ۔ یہاں پر آدمی کو وہ معاملہ ذکر کرنا چاہیے جو وہ کرنا چاہتا ہے ۔ وہ میرے حق میں ، میرے دن ، میری زندگی ، اور میری آخرت کے حوالے سے بہتر ہے ، تو ٹھیک ہے ، ورنہ وہ مجھے سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے ، اور پھر میرے لئے بھلائی مقدر کر دے ، خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہو ، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔