حدیث نمبر: 3676
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَا : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمَ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ اللَّهُمَّ مَا قَضَيْتَ عَلَيَّ مِنْ قَضَاءٍ فَاجْعَلْ عَاقِبَتَهُ إِلَى خَيْرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئِ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَهُوَ مُتَّهَمٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں استخارہ کی تعلیم یوں دیا کرتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی کسی سورت کی تعلیم دیتے تھے ( استخارہ کے کلمات یہ ہیں : ) ” اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے علم کے مطابق بھلائی طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کی مدد سے قدرت چاہتا ہوں ، بے شک تو قدرت رکھتا ہے ، اور میں قدرت نہیں رکھتا ہوں ، تو علم رکھتا ہے ، اور میں علم نہیں رکھتا ہوں ، تو غیوب کا بہت زیادہ علم رکھنے والا ہے ، اے اللہ ! تو نے میرے خلاف جو فیصلہ دیا ہے ، تو اُس کا انجام میرے حق میں بہتر کر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ہانی بن ابوعبلہ ہے ، ابن حبان نے اس کا ذکر کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور وہ تہمت یافتہ شخص ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3676
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً