حدیث نمبر: 3675
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الِاسْتِخَارَةَ قَالَ : " يَقُولُ أَحَدُكُمُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ [ بِعِلْمِكَ ] وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ فَإِنْ كَانَ كَذَا وَكَذَا - يُسَمِّي الْأَمْرَ بِاسْمِهِ - خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَمَعِيشَتِي وَخَيْرًا لِي فِي عَاقِبَةِ أَمْرِي وَخَيْرًا لِي فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا فَاقْدُرْهُ لِي وَبَارِكْ لِي فِيهِ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرُ ذَلِكَ خَيْرًا لِي فَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ وَرَضِّنِي بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں استخارہ کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا : ” اے اللہ ! میں تیرے علم کے مطابق تجھ سے بھلائی طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے مطابق تجھ سے قدرت ( یعنی طاقت ) مانگتا ہوں اور تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں ، بے شک تو قدرت رکھتا ہے ، اور میں قدرت نہیں رکھتا ہوں ، تو علم رکھتا ہے ، اور میں علم نہیں رکھتا ہوں ، تو غیوب کا بہت زیادہ علم رکھنے والا ہے ، اگر تو یہ معاملہ اس اس طرح ۔ یہاں پر آدمی اس معاملے کا نام لے ۔ میرے دین ، میری زندگی کے حوالے سے میرے حق میں بہتر ہے ، اور معاملے کے انجام کے حوالے سے میرے حق میں بہتر ہے ، اور میرے تمام امور کے حق میں میرے لئے بہتر ہے ، تو اسے میرا مقدر کر دے اور میرے لئے اس میں برکت رکھ دے اور اس کے علاوہ کچھ اور میرے حق میں زیادہ بہتر ہے ، تو میرے لئے بھلائی مقدر کر دے ، خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہو مجھے اُس سے راضی کر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3675
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف