مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الِاسْتِخَارَةِ . باب: استخارہ کا بیان
وَلِابْنِ مَسْعُودٍ فِي الْكَبِيرِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ إِذَا اسْتَخَارَ فِي الْأَمْرِ يُرِيدُ أَنْ يَصْنَعَهُ يَقُولُ : فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَخَرْ لِي فِي عَافِيَةٍ وَيَسِّرْهُ لِي " . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِأَسَانِيدَ وَزَادَ فِيهِ : " وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ فَإِنَّهُمَا بِيَدِكَ لَا يَمْلِكُهَا أَحَدٌ سِوَاكَ " ، وَقَالَ : " فَوَفِّقْهُ لِي وَسَهِّلْهُ " وَرِجَالُ طَرِيقَيْنِ مِنْ طُرُقِهِ حَسَنَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے معجم کبیر میں یہ بات منقول ہے : جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی کام کرنے لگتے ، اور اُس کے بارے میں استخارہ کرنا چاہتے تو یہ کہا: کرتے تھے ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تو میرے لئے عافیت مقرر کر دے اور اُسے میرے لئے آسان کر دے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” میں تجھ سے تیرے فضل اور تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں ، کیونکہ یہ دونوں تیرے دست قدرت میں ہیں ، تیرے علاوہ کوئی اور ان کا مالک نہیں ہے “ ۔ اور انہوں نے یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں : ” اُسے میرے لئے موافق کر دے اور اُسے آسان کر دے “ ۔ ان دونوں کے طرق حسن سند کے ساتھ منقول ہیں ۔