حدیث نمبر: 3673
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ إِذَا اسْتَخَارَ فِي الْأَمْرِ يُرِيدُ أَنْ يَصْنَعَهُ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَخَيْرًا لِي فِي مَعِيشَتِي وَخَيْرًا لِي فِيمَا أَبْتَغِي بِهِ الْخَيْرَ فَخِرْ لِي فِي عَافِيَةٍ وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرُ ذَلِكَ خَيْرًا لِي فَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ " يَقُولُ ثُمَّ يَعْزِمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ إِلَّا إِنَّهُ قَالَ فِي الصَّغِيرِ : " فَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ وَاصْرِفْ عَنِّي الشَّرَّ حَيْثُ كَانَ وَرَضِّنِي بِقَضَائِكَ " . ¤ وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ رَجُلٌ ضَعْفٌ فِي الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی کام کرنے کا ارادہ کرتے ، تو اُس کے بارے میں استخارہ کرتے ، تو یہ پڑھا کرتے تھے : ” اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے علم کے مطابق بھلائی طلب کرتا ہوں ، اور تیری قدرت کی مدد سے طاقت مانگتا ہوں ، میں تیرا فضل مانگتا ہوں ، بے شک تو قدرت رکھتا ہے ، اور میں قدرت نہیں رکھتا ہوں ، اور تو علم رکھتا ہے ، اور میں علم نہیں رکھتا ہوں ، تو غیوب کا بہت زیادہ علم رکھنے والا ہے ، اے اللہ ! اگر یہ چیز میرے لئے میرے دین کے حوالے سے بہتر ہے ، اور میری زندگی کے حوالے سے میرے لئے بہتر ہے ، اور اُس چیز کے حوالے سے میرے لئے بہتر ہے ، جس کے ذریعے میں بھلائی حاصل کرنا چاہوں ، تو میرے لئے عافیت مقرر کر دے اور اسے میرے لئے آسان کر دے اور پھر میرے لئے اس میں برکت رکھ دے ، اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور چیز میرے حق میں بہتر ہو ، تو میرے حق میں بہتر چیز مقدر کر دے ، خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہو “ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے ، اور پھر عزم کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے معجم صغیر میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تو میرے مقدر میں بھلائی رکھ دے ، خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہو ، اور برائی کو مجھ سے پھیر دے ، خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہو ، اور مجھے اپنے فیصلے سے راضی کر دے “ ۔ معجم کبیر کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ صلی اللہ علیہ وسلم طلحی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، معجم اوسط اور معجم صغیر کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جسے حدیث میں ” ضعیف “ قرار دیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3673
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «مصنف ابن أبى شيبة كتاب الدعاء ، الرجل يريد الحاجة ما يدعو به ؟ 28806 جامع معمر بن راشد باب الاستخارة حديث 817 البحر الزخار مسند البزار ، الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله 1353 المعجم الأوسط للطبرانى ، باب العين من اسمه عثمان ، 3812 المعجم الصغير للطبراني ، من اسمه عثمان ، 525 المعجم الكبير للطبراني ، من اسمه عبد الله ، طرق حديث عبد الله بن مسعود ليلة الجن مع رسول الله ، باب من روى عن ابن مسعود أنه لم يكن مع النبي، 9826»