مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي قَوْلِهِ : لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَنَحْوِ هَذَا . باب: نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان زنا کرنے والا زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا اور اس کی مانند دیگر فرامین کا تذکرہ
وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّهُ مَرَّ رَجُلٌ قَدْ ضَرَبَ فِي الْخَمْرِ عَلَى بَابِهَا ، فَقَالَتْ : أَيُّ شَيْءٍ هَذَا ؟ قُلْتُ : رَجُلٌ أَخَذَ سَكْرَانًا فَضَرَبَ . فَقَالَتْ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَشْرَبُ الشَّارِبُ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ - يَعْنِي الْخَمْرَ - وَلَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِبَعْضِهِ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ اُن کے دروازے کے پاس سے ، ایک ایسا شخص گزرا ، کہ شراب نوشی کی وجہ سے اُس کی پٹائی کی گئی تھی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : اس کا کیا معاملہ ہے ؟ تو میں نے بتایا : یہ ایک ایسا شخص ہے ، اس کو نشے کے عالم میں پکڑا گیا ، تو اُس کی پٹائی کی گئی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : سبحان اللہ ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” شراب پینے والا کوئی بھی شخص ، شراب پیتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ان کی مراد ، خمر تھی ، زنا کرنے والا ، زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، چوری کرنے والا چوری کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، شرف والی ایسی چیز جس کی طرف لوگ نگاہیں اُٹھا کے دیکھتے ہوں ، اُس کو لوٹ لینے والا شخص اُسے لوٹتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، تو تم لوگ بچ کے رہو ! تم لوگ بچ کے رہو ! “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، امام طبرانی نے اسے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحاق نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔