مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي قَوْلِهِ : لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَنَحْوِ هَذَا . باب: نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان زنا کرنے والا زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا اور اس کی مانند دیگر فرامین کا تذکرہ
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ وَهُوَ مُؤْمِنٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِطُولِهِ وَالْبَزَّارُ ، وَرَوَى أَحْمَدُ مِنْهُ : " لَا يَزْنِي الزَّانِي وَلَا يَسْرِقُ " فَقَطْ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُحَدِّثُ أَحْيَانًا بِالْحَدِيثِ الْمُنْكَرِ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” زنا کرنے والا ، زنا کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، شراب پینے والا ، شراب پیتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، چوری کرنے والا ، چوری کرتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا ، اور کسی شرف والی چیز کو لوٹ لینے والا ، اُسے لوٹتے ہوئے مؤمن نہیں رہتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جبکہ امام بزار نے بھی اسے نقل کیا ہے ، امام أحمد نے اس روایت میں سے صرف زنا کرنے اور چوری کرنے کا ذکر کیا ہے ، امام أحمد کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جبکہ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی معلی بن مہدی ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ شخص بعض اوقات منکر حدیث نقل کر دیتا ہے ، ابن حبان نے اس کا ذکر کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔