حدیث نمبر: 3668
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَخْتَلِفُ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِي حَاجَةٍ لَهُ فَكَانَ عُثْمَانُ لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ وَلَا يَنْظُرُ فِي حَاجَتِهِ فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ : ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ ثُمَّ ائْتِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قُلِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَبِيِّ الرَّحْمَةِ ، يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّي فَيَقْضِي لِي حَاجَتِي ، وَتَذْكُرُ حَاجَتَكَ ، وَرُحْ إِلَيَّ حِينَ أَرُوحُ مَعَكَ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ فَصَنَعَ مَا قَالَ لَهُ ثُمَّ أَتَى بَابَ عُثْمَانَ فَجَاءَ الْبَوَّابُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ فَأَدْخَلَهُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَأَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَى الطِّنْفِسَةِ وَقَالَ : حَاجَتُكَ ؟ فَذَكَرَ حَاجَتَهُ فَقَضَاهَا لَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ : مَا ذَكَرْتَ حَاجَتَكَ حَتَّى كَانَتْ هَذِهِ السَّاعَةُ ، وَقَالَ : مَا كَانَتْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ فَائْتِنَا ، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ فَقَالَ لَهُ : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا مَا كَانَ يَنْظُرُ فِي حَاجَتِي وَلَا يَلْتَفِتُ إِلَيَّ حَتَّى كَلَّمْتَهُ فِيَّ ، فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ : وَاللَّهِ مَا كَلَّمْتُهُ وَلَكِنْ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَتَاهُ رَجُلٌ ضَرِيرٌ فَشَكَا إِلَيْهِ ذَهَابَ بَصَرِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوَ تَصْبِرُ ؟ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ وَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ ثُمَّ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ ادْعُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ " فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ : فَوَاللَّهِ مَا تَفَرَّقْنَا وَطَالَ بِنَا الْحَدِيثُ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ الرَّجُلُ كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ ضَرَرٌ قَطُّ . ¤ قُلْتُ رَوَى التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْ آخِرِهِ خَالِيًا عَنِ الْقِصَّةِ ، وَقَدْ قَالَ الطَّبَرَانِيُّ عَقِبَهُ : وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ بَعْدَ ذِكْرِ طُرُقِهِ الَّتِي رُوِيَ بِهَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص اپنے کسی کام کے سلسلے میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس آتا جاتا رہا ، لیکن سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف توجہ نہیں دی ، اور اس کی ضرورت کا جائزہ نہیں لیا ، اُس شخص کی ملاقات سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے ہوئی اس نے اس بات کی شکایت سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کے سامنے کی ، تو سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تم وضو کے برتن کے پاس جاؤ وضو کرو ، پھر تم مسجد میں آؤ ، اُس میں دو رکعات ادا کرو ، اور پھر یہ پڑھو : ” اے اللہ ! میں اپنے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو نبی رحمت ہیں ، اُن کے وسیلے سے تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ، اے سیدنا محمد ! میں آپ کو اپنے پروردگار کی بارگاہ کی طرف متوجہ کرواتا ہوں ( کہ آپ میرے لئے یہ دعا کریں ) تاکہ پروردگار میری حاجت کو پورا کر دے “ ۔ ( پھر سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تم اپنے کام کا ذکر کرو اور پھر ادھر جب جاؤ گے ، تو میں بھی تمہارے ساتھ جاؤں گا ، وہ شخص چلا گیا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جو اُسے بتایا تھا ، وہ اُس نے کیا ، پھر وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آیا ، تو دربان آیا ، اُس نے اس شخص کا ہاتھ پکڑا ، اور اسے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لے گیا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ساتھ اپنے بچھونے پر بٹھایا ، اور فرمایا : تمہیں کیا کام ہے ؟ اس شخص نے اپنی ضرورت کا ذکر کیا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اُسے پورا کرنے کی ہدایت کی ، پھر اُس سے فرمایا تم نے اپنی ضرورت بتانے میں اتنی دیر کر دی ؟ پھر انہوں نے فرمایا : تمہیں جب بھی کوئی ضرورت ہو ، تو تم ہمارے پاس آ جایا کرو ، وہ شخص ان کے پاس سے نکلا ، تو اس کی ملاقات سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، اس شخص نے اُن سے کہا: اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا کرے ، پہلے تو وہ میری ضرورت کی طرف غور و فکر ہی نہیں کرتے تھے ، اور میری طرف توجہ ہی نہیں کرتے تھے ، آپ نے اُن سے میرے بارے میں بات چیت کی ، تو انہوں نے ایسا کیا ، تو سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نے ان کے ساتھ کوئی بات نہیں کی ، ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، ایک نابینا شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُس نے بینائی رخصت ہونے کی شکایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم صبر سے کام نہیں لیتے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے ساتھ لے کے چلنے والا کوئی نہیں ہے ، اور مجھے بڑی پریشانی ہوتی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم وضو کے برتن کے پاس جاؤ ، وضو کرو ، پھر دو رکعات ادا کرو ، پھر یہ دعا کرو ، سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ یہ بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! ابھی ہم وہاں سے اٹھے نہیں تھے ، اور گفتگو کیے ہوئے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو یوں لگ رہا تھا کہ جیسے اُسے کوئی ضرر لاحق ہی نہیں تھا ( یعنی اس کی بینائی بالکل ٹھیک ہو چکی تھی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے اس روایت کا آخری حصہ نقل کیا ہے ، جو پورے واقعے کے علاوہ ہے ، امام طبرانی فرماتے ہیں : یہ حدیث صحیح ہے ، انہوں نے اس کے مختلف طرق ذکر کرنے کے بعد یہ بات بیان کی ہے ، جن طرق کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3668
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «الجامع للترمذي، أبواب الدعوات عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب فى دعاء الضيف 3587 ، سنن ابن ماجه كتاب إقامة الصلاة، باب ما جاء فى صلاة الحاجة 1381 صحيح ابن خزيمة جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن جماع أبواب التطوع غير ما تقدم ذكرنا لها ، باب صلاة الترغيب والترتيب ، 1145 المستدرك على الصحيحين للحاكم أول كتاب المناسك، كتاب الدعاء 1850 ، السنن الكبرى للنسائى كتاب عمل اليوم والليلة ، ذكر حديث عثمان بن حنيف ، حديث 10097 مسند أحمد بن حنبل، مسند الشاميين حديث عثمان بن حنيف . 16925 المعجم الصغير للطبراني من اسمه طاهر، 509 المعجم الكبير للطبراني، باب من اسمه عمر من اسمه عثمان، ما أسند عثمان بن حنيف 8190 عمل اليوم والليلة لابن السني باب ما يقول لمن ذهب بصره 627»