حدیث نمبر: 3669
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ اسْتِخَارَتُهُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مِنْ سَعَادَةِ الْمَرْءِ اسْتِخَارَتُهُ رَبَّهُ وَرِضَاهُ بِمَا قَضَى ، وَمِنْ شَقَاءِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ الِاسْتِخَارَةَ وَسُخْطُهُ بَعْدَ الْقَضَاءِ " . ¤ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : ضَعْفُهُ بَيِّنٌ عَلَى مَا يَرْوِيهِ وَحَدِيثُهُ مُقَارِبٌ وَهُوَ مَعَ ضَعْفِهِ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ابن آدم کی سعادت مندی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرے “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” آدمی کی سعادت مندی میں ، یہ چیز بھی شامل ہے کہ وہ اپنے پروردگار سے استخارہ کرے اور پروردگار نے جو فیصلہ دیا ہے ، اس سے راضی رہے ، اور آدمی کی بدنصیبی میں یہ بات شامل ہے کہ آدمی استخارہ ترک کر دے اور ( تقدیر کے ) فیصلے کے بعد اس پر ناراض ہو“ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ابن عدی کہتے ہیں : اس نے جو روایات نقل کی ہیں ، ان کے حساب سے اس کا ضعیف ہونا واضح ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث مقارب ہے ، تاہم اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، امام أحمد امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے اس شخص کو ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3669
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «الجامع للترمذي أبواب القدر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء فى الرضا بالقضاء ، 2128 ، المستدرك على الصحيحين للحاكم، أول كتاب المناسك، كتاب الدعاء 1844، مسند أحمد بن حنبل، مسند العشرة المبشرين بالجنة مسند أبى إسحاق سعد بن ابي وقاص رضى الله عنه 1407 شعب الإيمان للبيهقي، الخامس من شعب الإيمان ، 200»