مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الِاسْتِخَارَةِ . باب: استخارہ کا بیان
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ اسْتِخَارَتُهُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مِنْ سَعَادَةِ الْمَرْءِ اسْتِخَارَتُهُ رَبَّهُ وَرِضَاهُ بِمَا قَضَى ، وَمِنْ شَقَاءِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ الِاسْتِخَارَةَ وَسُخْطُهُ بَعْدَ الْقَضَاءِ " . ¤ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : ضَعْفُهُ بَيِّنٌ عَلَى مَا يَرْوِيهِ وَحَدِيثُهُ مُقَارِبٌ وَهُوَ مَعَ ضَعْفِهِ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ . ¤سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ابن آدم کی سعادت مندی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرے “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” آدمی کی سعادت مندی میں ، یہ چیز بھی شامل ہے کہ وہ اپنے پروردگار سے استخارہ کرے اور پروردگار نے جو فیصلہ دیا ہے ، اس سے راضی رہے ، اور آدمی کی بدنصیبی میں یہ بات شامل ہے کہ آدمی استخارہ ترک کر دے اور ( تقدیر کے ) فیصلے کے بعد اس پر ناراض ہو“ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ابن عدی کہتے ہیں : اس نے جو روایات نقل کی ہیں ، ان کے حساب سے اس کا ضعیف ہونا واضح ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث مقارب ہے ، تاہم اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، امام أحمد امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے اس شخص کو ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔