حدیث نمبر: 3666
عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : صَحِبْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ أَتَعَلَّمُ مِنْهُ فَلِمَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ : آذِنِ النَّاسَ بِمَوْتِي فَآذَنْتُ النَّاسَ بِمَوْتِهِ ، فَجِئْتُ وَقَدْ مُلِئَ الدَّارُ وَمَا سِوَاهُ [ قَالَ : فَقُلْتُ : قَدْ آذَنْتُ النَّاسِ بِمَوْتِكَ ، وَقَدْ مُلِئَ الدَّارُ وَمَا سِوَاهُ ] قَالَ : أَخْرِجُونِي فَأَخْرَجْنَاهُ قَالَ : فَأَجْلِسُونِي فَأَجْلَسْنَاهُ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يُتِمُّهُمَا أَعْطَاهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مَا سَأَلَ مُعَجَّلًا أَوْ مُؤَخَّرًا " . ¤ قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : [ يَا أَيُّهَا النَّاسُ ] إِيَّاكُمْ وَالِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمُلْتَفِتٍ فَإِنْ غُلِبْتُمْ فِي التَّطَوُّعِ فَلَا تُغْلَبُنَّ فِي الْفَرَائِضِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَيْمُونٌ أَبُو مُحَمَّدٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین

یوسف بن عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس رہا ، تاکہ اُن سے علم حاصل کرتا رہوں ، جب اُن کی وفات کا وقت قریب آیا ، تو انہوں نے فرمایا : لوگوں کو میرے قریب المرگ ہونے کی اطلاع دے دو ! میں نے لوگوں کو اطلاع دے دی ، میں آیا تو گھر بھر چکا تھا اور باہر بھی لوگ موجود تھے ، میں نے کہا: میں نے لوگوں کو آپ کے قریب المرگ ہونے کی اطلاع دیدی ہے ، تو گھر اور باہر لوگ بھر چکے ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : تم مجھے باہر لے جاؤ ! ہم انہیں باہر لے آئے ، تو انہوں نے فرمایا : تم مجھے بٹھاؤ ! ہم نے انہیں بٹھا دیا ، انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص وضو کرتے ہوئے ، اچھی طرح وضو کرے اور پھر دو رکعات مکمل ادا کرے ، تو وہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگے گا ، تو اللہ تعالیٰ اُسے وہ چیز جلدی عطا کر دے گا “ ۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! نماز کے دوران ادھر ادھر توجہ کرنے سے بچو ! کیونکہ ادھر ادھر توجہ کرنے والے کی نماز نہیں ہوتی ہے ، اگر مجبوراً ایسا کرنا پڑے ، تو نفل میں ایسا کر لو ، فرض میں ایسا نہ کرنا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی میمون ابومحمد ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3666
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «مسند أحمد بن حنبل، مسند الأنصار من مسند القبائل، من حديث أبى الدرداء عويمر 26895»