مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ صَلَاةِ سَيِّدِنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: سیدنا رسول اللہ ﷺ کی ( نفل ) نماز
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَبِي بَكْرَةَ فَاسْتَصْغَرَهَا [ ثُمَّ ] قَالَ [ لِي ] : انْطَلِقْ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَائِتِ فَقُلْ : إِنَّا قَوْمٌ نَعْمَلُ فَإِنْ كَانَ عِنْدَكَ أَسَنُّ مِنْهَا فَابْعَثْ بِهَا إِلَيْنَا ؟ [ فَأَتَيْتُ بِهَا ] فَقَالَ : " ابْنَ عَمِّي وَجِّهْهَا إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ " ، فَوَجَّهْتُهَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْعِشَاءَ فَقَالَ : " مَا تُرِيدُ أَنْ تَبِيتَ عِنْدَ خَالَتِكَ اللَّيْلَةَ قَدْ أَمْسَيْتَ ؟ " فَوَافَقْتُ لَيْلَتَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَيْتُهَا فَعَشَّتْنِي وَوَطَّأَتْ لِي عَبَاءَةً بِأَرْبَعَةٍ فَافْتَرَشْتُهَا فَقُلْتُ : لَأَعْلَمَنَّ مَا يَعْمَلُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اللَّيْلَةَ ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا مَيْمُونَةُ ! " فَقَالَتْ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ : " مَا أَتَاكِ ابْنُ أُخْتِكِ ؟ " قَالَتْ : بَلَى ، هُوَ هَذَا ، قَالَ : " أَفَلَا عَشَّيْتِيهِ إِنْ كَانَ عِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ " قَالَتْ : قَدْ فَعَلْتُ ، قَالَ : " فَوَطَّأْتِ لَهُ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ فَمَالَ إِلَى فِرَاشِهِ فَلَمْ يَضْطَجِعْ عَلَيْهِ وَاضْطَجَعَ حَوْلَهُ وَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى الْفِرَاشِ فَمَكَثَ سَاعَةً فَسَمِعْتُهُ نَفَخَ فِي النَّوْمِ فَقُلْتُ : نَامَ وَلَيْسَ بِالْمُسْتَيْقِظِ وَلَيْسَ بِقَائِمٍ اللَّيْلَةَ ، ثُمَّ قَامَ حَيْثُ قُلْتُ : ذَهَبَ الرُّبُعُ أَوِ الثُّلُثُ مِنَ اللَّيْلِ فَأَتَى سِوَاكًا لَهُ وَمَطْهَرَةً فَاسْتَاكَ حَتَّى سَمِعْتُ صَرِيرَ ثَنَايَاهُ تَحْتَ السِّوَاكِ ، [ وَهُوَ يَقْرَأُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ثُمَّ وَضَعَ السِّوَاكَ ] ثُمَّ قَامَ إِلَى قِرْبَةٍ فَحَلَّ شِنَاقَهَا فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ فَأَصُبَّ عَلَيْهِ فَخَشِيتُ أَنْ يَذَرَ شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ دَخَلَ مَسْجِدَهُ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَقَرَأَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ مِقْدَارَ خَمْسِينَ آيَةً يُطِيلُ فِيهَا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى مَكَانِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ فَاضْطَجَعَ هَوْنًا فَنَفَخَ وَهُوَ نَائِمٌ فَقُلْتُ : لَيْسَ بِقَائِمٍ اللَّيْلَةَ حَتَّى يُصْبِحَ ، فَلَمَّا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفُهُ أَوْ قَدَرُ ذَلِكَ قَامَ يَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ دَخَلَ مَسْجِدَهُ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ عَلَى قَدْرِ ذَلِكَ ثُمَّ جَاءَ إِلَى مَضْجَعِهِ فَاتَّكَأَ عَلَيْهِ فَنَفَخَ فَقُلْتُ : ذَهَبَ بِهِ النَّوْمُ وَلَيْسَ بِقَائِمٍ حَتَّى يُصْبِحَ ثُمَّ قَامَ حِينَ بَقِيَ سُدُسُ اللَّيْلِ أَوْ أَقَلُّ فَاسْتَاكَ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَافْتَتَحَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثُمَّ قَرَأَ بِ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُمَّ قَنَتَ فَرَكَعَ وَسَجَدَ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَعَدَ حَتَّى إِذَا مَا طَلَعَ الْفَجْرُ نَادَانِي فَقُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ : " قُمْ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ بِنَائِمٍ " فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ قَامَ فِي الثَّانِيَةِ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ وَفِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ سَالِمٍ الْخَفَّافُ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ غَيْرُهُ : ضَعِيفٌ وَهُوَ رَجُلٌ صَالِحٌ وَلَكِنَّهُ دَفَنَ كُتُبَهُ فَلَا يَثْبُتُ حَدِيثُهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد کو ایک جوان اونٹنی تحفے میں دی ، میرے والد نے اسے کم عمر سمجھا ، انہوں نے مجھ سے فرمایا : تم اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ ، تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ عرض کرنا کہ ہم کام کاج کرنے والے لوگ ہیں ، اگر آپ کے پاس اس سے زیادہ عمر والی کوئی اونٹنی ہو ، تو وہ ہمیں بھجوا دیں ، میں وہ اونٹنی لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے میرے چچا کے بیٹے ! تم اسے صدقہ کے اونٹوں کی طرف لے جاؤ ، میں اسے وہاں لے گیا پھر میں مسجد میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور میں نے آپ کی اقتداء میں عشاء کی نماز ادا کی ، آپ نے فرمایا : کیا تم آج رات اپنی خالہ کے ہاں نہیں ٹھہرو گے ؟ کیونکہ شام ہو چکی ہے ، تو اس رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ٹھہرنے کے لئے تیار ہو گیا ، میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر آیا ، انہوں نے مجھے کھانا دیا اور میرے لئے ایک عبا بچھا دی ، میں نے سوچا میں اس بات کا جائزہ لوں گا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت کس طرح عمل کرتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے میمونہ ! انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہارا بھانجا تمہارے پاس آ گیا تھا ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! وہ یہاں موجود ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تمہارے پاس کچھ تھا ، تو تم نے اسے کھانے کے لئے دے دینا تھا ، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : میں نے ایسا کر لیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کے لئے کچھ بچھایا ہے ، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بچھونے سے ایک طرف ہو کر لیٹ گئے ، آپ اس پر نہیں لیٹے ، آپ اس کے ارد گرد لیٹ گئے ، اور آپ نے اپنا سر بچھونے پر رکھ دیا کچھ دیر گزری ، میں نے آپ کو سنا کہ آپ نیند کے دوران خراٹے لینے لگے ، میں نے یہ سوچا کہ اب آپ سو گئے ہیں ، اور رات کو نوافل ادا نہیں کریں گے ، پھر میرے اندازے کے مطابق جب رات کا ایک چوتھائی حصہ ، یا ایک تہائی حصہ رخصت ہو چکا تھا ، اس وقت آپ اُٹھے آپ اپنی مسواک اور وضو کے پانی کے پاس تشریف لائے ، آپ نے مسواک کرنا شروع کی ، یہاں تک کہ مسواک کے نیچے میں نے آپ کے دانتوں کی حرکت کو سنا ، آپ یہ آیات تلاوت کر رہے تھے : ” بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔
پھر آپ نے مسواک رکھی اور اُٹھ کر مشکیزے کی طرف گئے اور آپ نے اسے کھولا ، پہلے میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں اُٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرواتا ہوں ، لیکن پھر مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمل میں سے کسی چیز کو ( میری وجہ سے ) ترک نہ کر دیں ، جب آپ نے وضو کر لیا ، تو آپ نماز کی جگہ پر تشریف لائے ، آپ نے چار رکعات ادا کیں ، آپ نے ہر رکعت میں تقریبا پچاس آیات کی تلاوت کی ، آپ نے ان آیات میں طویل ، رکوع اور سجود کیا ، پھر آپ اپنی جگہ پر آ گئے ، جہاں آپ پہلے موجود تھے ، اور وہاں آپ آرام سے لیٹ گئے اور سونے کے دوران خراٹے لینے لگے ، میں نے سوچا کہ اب آپ رات کے وقت نوافل ادا نہیں کریں گے ، یہاں تک کہ صبح ہو جائے گی ، جب ایک تہائی رات ، یا اس کا نصف ، یا اُس کے آس پاس کا حصہ گزر گیا ، تو پھر آپ نے ایسا ہی کیا ، آپ اپنی نماز کی جگہ پر تشریف لائے ، آپ نے چار رکعات ادا کیں ، جو اُسی طرح تھیں پھر اپنی لیٹنے کی جگہ پر آئے اور وہاں سو گئے اور خراٹے لینے لگے ، میں نے سوچا اب آپ کو نیند آ گئی ہے ، اب آپ صبح ہونے تک نہیں اٹھیں گے ، لیکن جب رات کا چھٹا حصہ ، یا اس سے کچھ کم حصہ باقی رہ گیا تو آپ اٹھے آپ نے وضو کیا ، آپ نے مسواک کی ، پھر سورت فاتحہ پڑھی ، پھر سورت الاعلیٰ کی تلاوت کی پھر رکوع میں گئے ، سجدہ کیا ، پھر آپ کھڑے ہوئے ، سورت فاتحہ پڑھی ، پھر آپ نے سورت الکافرون پڑھی ، پھر آپ رکوع میں چلے گئے سجدہ کیا ، پھر آپ کھڑے ہوئے ، آپ نے سورت فاتحہ پڑھی اور سورت اخلاص پڑھی ، پھر آپ نے دعائے قنوت پڑھی ، پھر آپ نے رکوع کیا ، اور پھر آپ سجدے میں چلے گئے ( یعنی آپ نے وتر ادا کیے ) جب آپ فارغ ہوئے ، تو آپ تشریف فرما ہوئے ، یہاں تک کہ جب صبح صادق ہوئی ، تو آپ نے مجھے پکارا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اُٹھ جاؤ ! اللہ کی قسم ! تم نہیں سوؤ گے ، میں اُٹھا میں نے وضو کیا ، اور آپ کے پیچھے نماز ادا کی ، آپ نے سورت فاتحہ اور سورت اخلاص کی تلاوت کی پھر آپ رکوع میں چلے گئے اور سجدے میں گئے ، پھر آپ دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے ، تو آپ نے سورت فاتحہ اور سورت الکافرون کی تلاوت کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سالم خفاف ہے ، ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، دیگر حضرات نے یہ کہا: ہے : یہ ضعیف ہے ، یہ ایک نیک شخص تھا ، لیکن اس کی کتابیں دفن ہو گئیں تھیں ، تو اس کی نقل کردہ حدیث ” ثبت “ نہیں ہے ۔