حدیث نمبر: 3655
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَزِعَا فَاسْتَقَى مَاءً فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَرَأَ : إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ ثُمَّ افْتَتَحَ الْبَقَرَةَ فَقَرَأَهَا حَرْفًا حَرْفًا حَتَّى خَتَمَهَا ثُمَّ رَكَعَ فَقَالَ : " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ " ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ : " سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى " ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ : " رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَارْزُقْنِي وَاهْدِنِي " ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ آلَ عِمْرَانَ ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ فَعَلَ كَمَا فَعَلَ فِي الْأُولَى ثُمَّ اضْطَجَعَ ثُمَّ قَامَ فَزِعًا فَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ فِي الْأُولَيَيْنِ فَقَرَأَ حَرْفًا حَرْفًا حَتَّى صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فَيَضْطَجِعُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ ، وَأَوْتَرَ بِثَلَاثٍ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَأَمَّا أَبُو حَاتِمٍ فَرَضِيَهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات بسر کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب کیا ، وضو کیا ، پھر آپ نے یہ آیات تلاوت کیں : ” بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ انہیں سورت کے آخر تک تلاوت کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت بقرہ پڑھنی شروع کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ایک ایک ، حرف کو پڑھا ، یہاں تک کہ وہ پوری سورت ختم کر دی ، پھر آپ رکوع میں چلے گئے ، پھر آپ نے سبحان ربی العظیم پڑھا ، پھر آپ سجدے میں گئے ، تو آپ نے سبحان ربی الاعلی پڑھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا ، تو دو سجدوں کے درمیان یہ پڑھا : ” اے میرے پروردگار ! تو میری مغفرت کر دے ، مجھ پر رحم کر ، مجھے رزق عطا فرما ، مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، آپ نے دوسری رکعت میں سورت آل عمران کی تلاوت کی ، پھر آپ رکوع میں گئے اور سجدے میں گئے اور آپ نے ایسا ہی کیا ، جس طرح آپ نے پہلی رکعت میں کیا تھا ، پھر آپ لیٹ گئے پھر آپ اٹھے اور آپ نے ویسا ہی کیا ، جس طرح آپ نے پہلی دو رکعات میں کیا تھا ، آپ نے ایک ، ایک حرف کی تلاوت کی ، یہاں تک کہ آپ نے آٹھ رکعات ادا کر لیں ، آپ ہر دو رکعات کے بعد لیٹ جاتے تھے ، پھر آپ نے تین وتر ادا کیے ، پھر فجر کی دو رکعات ( یعنی سنتیں ) ادا کیں “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن اسحاق عطار ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، جہاں تک ابوحاتم کا تعلق ہے ، تو وہ اس سے راضی ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3655
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله وما أسند عبد الله بن عباس رضى الله عنهما سعيد بن جبير، 12137»