مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ صَلَاةِ سَيِّدِنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: سیدنا رسول اللہ ﷺ کی ( نفل ) نماز
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَاهُ بَعَثَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَاجَةٍ قَالَ : فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ فِي الْمَسْجِدِ فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أُكَلِّمَهُ فَلَمَّا صَلَّى الْمَغْرِبَ قَامَ يَرْكَعُ حَتَّى انْصَرَفَ مَنْ بَقِيَ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى مَنْزِلِهِ وَتَبِعْتُهُ ، فَلَمَّا سَمِعَ حِسِّي قَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " قُلْتُ : ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ : " ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ ؟ " قُلْتُ : ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ : " مَرْحَبًا بِابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ " . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ مَا فِي الصَّحِيحِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اُن کے والد نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کسی کام کے سلسلے میں بھیجا ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اصحاب کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا پایا ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت نہیں کر سکا ، جب آپ نے مغرب کی نماز ادا کر لی ، تو آپ اُٹھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوافل ادا کرنے شروع کیے ، یہاں تک کہ مسجد میں موجود لوگ واپس چلے گئے ، آپ بھی اپنے گھر چلے گئے ، میں آپ کے پیچھے آیا ، جب آپ نے میری آہٹ محسوس کی ، تو دریافت کیا : کون ہے ؟ تو میں نے عرض کی : ابن عباس ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اللہ کے رسول کا چچا زاد ؟ میں نے عرض کی : اللہ کے رسول کا چچا زاد ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کے رسول کے چچا زاد کو خوش آمدید ہے !
علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے اس کی مانند حدیث ذکر کی ہے ، جو ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔