مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ صَلَاةِ سَيِّدِنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: سیدنا رسول اللہ ﷺ کی ( نفل ) نماز
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُصَلِّي فَصَلَّيْتُ بِصَلَاتِهِ مِنْ وَرَائِهِ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ فَاسْتَفْتَحَ الْبَقَرَةَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيَرْكَعُ ثُمَّ مَضَى ، قَالَ سِنَانُ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ : صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ كَانَ رُكُوعُهُ مِثْلَ قِيَامِهِ قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَلَا أَعْلَمْتَنِي ؟ " قَالَ حُذَيْفَةُ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا إِنِّي لَأَجِدُهُ فِي ظَهْرِي حَتَّى السَّاعَةَ ! ؟ قَالَ : " لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ وَرَائِي لَخَفَّفْتُ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سِنَانُ بْنُ هَارُونَ الْبُرْجُمِيُّ قَالَ ابْنُ مَعِينٍ : سِنَانُ بْنُ هَارُونَ أَخُو سَيْفٍ وَسِنَانُ أَحْسَنُهُمَا حَالًا ، وَقَالَ مَرَّةً : سِنَانُ أَوْثَقُ مِنْ سَيْفٍ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ ابْنِ مَعِينٍ . ¤سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نماز ادا کر رہے تھے ، میں نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرنا شروع کی ، آپ کو اس بات کا پتہ نہیں چلا ، آپ نے سورت بقرہ پڑھنا شروع کر دی ، میں نے یہ گمان کیا کہ آپ تھوڑی دیر بعد رکوع میں چلے جائیں گے ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل تلاوت کرتے رہے ، یہاں سنان نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : میرے علم کے مطابق روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : انہوں نے یہ بیان کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکعات ادا کیں ، اور آپ کا رکوع بھی ، قیام کی طرح ( طویل ) تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں ؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ نبی بنا کر مبعوث کیا ہے ، مجھے اس وقت بھی اپنی کمر میں ( اتنے طویل قیام کی وجہ سے درد کی کیفیت ) محسوس ہو رہی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے یہ پتہ ہوتا کہ تم میرے پیچھے کھڑے ہو ، تو میں مختصر نماز ادا کرتا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ابتدائی کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سنان بن ہارون برجمی ہے ، یحیی بن معین کہتے ہیں : سنان بن ہارون ، سیف کا بھائی ہے ، اور ان دونوں میں سے سنان زیادہ بہتر حالت کا مالک ہے ، ایک مرتبہ انہوں نے یہ کہا: ہے : سنان ، سیف سے زیادہ ثقہ ہے ، یحیی بن معین کے علاوہ دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔