مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ صَلَاةِ سَيِّدِنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: سیدنا رسول اللہ ﷺ کی ( نفل ) نماز
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الْعَتَمَةَ ثُمَّ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ سَبْعَ رَكَعَاتٍ يُسَلِّمُ فِي الْأَرْبَعِ فِي كُلِّ ثِنْتَيْنِ ، وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ يَتَشَهَّدُ فِي الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْوِتْرِ تَشَهُّدَهُ فِي التَّسْلِيمِ وَيُوتِرُ بِالْمُعَوِّذَاتِ ، فَإِذَا رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ وَيَرْقُدُ فَإِذَا انْتَبَهَ مِنْ نَوْمِهِ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنَامَنِي فِي عَافِيَةٍ وَأَيْقَظَنِي فِي عَافِيَةٍ " ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَتَفَكَّرُ ثُمَّ يَقُولُ : " رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " فَيَقْرَأُ حَتَّى يَبْلُغَ : إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ يُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ يُكْثِرُ فِيهِمَا الدُّعَاءَ حَتَّى إِنِّي لَأَرْقُدُ وَأَسْتَيْقِظُ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَضْطَجِعُ فَيُغْفِي ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ ثُمَّ يَتَكَلَّمُ بِمِثْلِ مَا تَكَلَّمَ فِي الْأُولَى ثُمَّ يَقُومُ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ هُمَا أَطْوَلُ مِنَ الْأُولَيَيْنِ ، وَهُوَ فِيهِمَا أَشَدُّ تَضَرُّعًا وَاسْتِغْفَارًا حَتَّى أَقُولَ : هَلْ هُوَ مُنْصَرِفٌ ؟ وَيَكُونُ ذَلِكَ إِلَى آخِرِ اللَّيْلِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيُغْفِي قَلِيلًا فَأَقُولُ : هَذَا غَفِيَ أَمْ لَا ؟ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيَقُولُ مِثْلَ مَا قَالَ فِي الْأُولَى ثُمَّ يَجْلِسُ فَيَدْعُو بِالسِّوَاكِ فَيَسْتَنُّ وَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَكَانَتْ هَذِهِ صَلَاتَهُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً . ¤ قُلْتُ : لِعَائِشَةَ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز ادا کر لیتے تھے ، پھر آپ مسجد میں چھ رکعات ادا کرتے تھے جو گھر واپس آنے سے پہلے ادا کرتے تھے ، آپ ہر دو رکعات کے بعد سلام پھیر دیتے تھے ، اور تین وتر ادا کرتے تھے ، وتر کی پہلی دو رکعات کے بعد آپ تشہد میں بیٹھتے تھے ، پھر جب سلام پھیرنا ہوتا تھا ، تب بھی آپ تشہد میں بیٹھتے تھے ، آپ وتر میں معوذات کی تلاوت کرتے تھے ، جب آپ گھر تشریف لاتے تھے ، تو دو رکعات ادا کرتے تھے پھر سو جاتے تھے پھر جب بیدار ہوتے تھے ، تو یہ پڑھتے تھے : ” ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے مجھے عافیت میں نیند عطا کی اور عافیت میں بیدار کیا “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر آسمان کی طرف اٹھا کر غور و فکر کرتے تھے ، پھر یہ پڑھتے تھے : ” اے ہمارے پروردگار ! تو نے اسے فضول میں پیدا نہیں کیا ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے ، تو ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے “ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیات تلاوت کرتے تھے ، یہاں تک کہ یہ پڑھتے تھے : ” بے شک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے “ ۔ پھر آپ وضو کرتے تھے ، پھر کھڑے ہو کر دو رکعات ادا کرتے تھے ، جن میں آپ طویل قرأت ، رکوع اور سجود کرتے تھے ، آپ ان رکعات میں بکثرت دعا کرتے تھے ، یہاں تک کہ میں سو جاتی تھی ، پھر بیدار ہو جاتی تھی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ختم کر کے لیٹ جاتے تھے ، اور سو جاتے تھے ، پھر آپ اٹھتے تھے ، پھر آپ اُسی طرح دعا پڑھا کرتے تھے ، جس طرح پہلی دفعہ میں پڑھتے تھے ، پھر آپ کھڑے ہو کر دو رکعات ادا کرتے تھے ، جو پہلی والی دو رکعات سے زیادہ طویل ہوتی تھیں ، اور آپ ان میں زیادہ گریہ وزاری اور زیادہ استغفار کیا کرتے تھے ، یہاں تک کہ میں یہ سوچتی کہ کیا آپ اس نماز کو ختم کریں گے ؟ ایسا رات کے آخر تک ہوتا رہتا تھا ، پھر آپ نماز ختم کرتے تھے ، اور تھوڑی دیر کے لئے سو جاتے تھے ، تو میں یہ سمجھتی کہ آپ سوئے بھی ہیں ، یا نہیں سوئے ؟ یہاں تک کہ مؤذن آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتا تھا ، آپ پھر اُسی کی مانند کلمات پڑھتے تھے ، جو پہلی مرتبہ میں پڑھے تھے ، پھر آپ بیٹھ کے مسواک منگواتے تھے ، مسواک کرتے تھے ، وضو کرتے تھے ، پھر دو مختصر رکعت ادا کرتے تھے ( جو فجر کی دو سنتیں ہوتی تھیں ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے تشریف لے جاتے تھے ، تو آپ کی نماز تیرہ رکعات ہوتی تھیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ” صحیح “ میں احادیث منقول ہیں ، جو اس روایت کے علاوہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اُس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔