مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ صَلَاةِ سَيِّدِنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: سیدنا رسول اللہ ﷺ کی ( نفل ) نماز
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ : مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ : مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ ، وَكَانَ يَقْرَأُ كُلَّ لَيْلَةٍ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ وَالزُّمَرِ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : وَكَانَ يَقْرَأُ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ وَالزُّمَرِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل ( نفلی ) روزے رکھتے رہتے تھے ، یہاں تک کہ ہم یہ سوچتے تھے کہ اب آپ کوئی نفلی روزہ ترک نہیں کریں گے اور آپ کبھی نفلی روزہ ترک کر دیتے تھے ، یہاں تک کہ ہم یہ سوچتے تھے کہ اب آپ نفلی روزہ نہیں رکھیں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری رات میں سورہ بنی اسرائیل اور سورت زمر کی تلاوت کرتے تھے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورت بنی اسرئیل اور سورت زمر کی تلاوت کرتے تھے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔