مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ صَلَاةِ سَيِّدِنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: سیدنا رسول اللہ ﷺ کی ( نفل ) نماز
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُومُ اللَّيْلَ حَتَّى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ ، فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَيِسَ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ قَالَ : " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : رُبَّمَا أَخْطَأَ وَرَوَى عَنْهُ الْعُقَيْلِيُّ وَكَانَ يَزْعُمُ أَنَّهُ ثِقَةٌ . ¤سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نوافل ادا کرتے رہتے تھے ، یہاں تک کہ آپ کے پاؤں پھول جاتے تھے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت نہیں کر دی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن حکم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے : یہ بعض اوقات غلطی کرتا ہے ، عقیلی نے اس سے روایات نقل کی ہیں ان کا یہ کہنا ہے : یہ ثقہ ہے ۔