مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ صَلَاةِ سَيِّدِنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: سیدنا رسول اللہ ﷺ کی ( نفل ) نماز
حدیث نمبر: 3636
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ قَالَ : " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ! " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو قَتَادَةَ الْحَرَّانِيُّ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( رات کے وقت طویل نفل ) نماز ادا کرتے تھے ، یہاں تک کہ آپ کے پاؤں ورم آلود ہو جاتے تھے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت نہیں کر دی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوقتادہ حرانی ہے ، جسے امام أحمد ، یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔