مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ صَلَاةِ سَيِّدِنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: سیدنا رسول اللہ ﷺ کی ( نفل ) نماز
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ تَفْعَلُ هَذَا وَقَدْ جَاءَكَ مِنَ اللَّهِ أَنْ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ قَالَ : " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ؟ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( رات کے وقت نوافل ادا کرتے ہوئے اتنی طویل ) نماز ادا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں ورم آلود ہو جاتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ ایسا کرتے ہیں ؟ جب کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے پاس یہ بات آ چکی ہے کہ اُس نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں پروردگار کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے اس کا کچھ حصہ روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔