مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ صَلَاةِ سَيِّدِنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: سیدنا رسول اللہ ﷺ کی ( نفل ) نماز
حدیث نمبر: 3633
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى وَرِمَ قَدَمَاهُ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ قَالَ : " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ( نفل ) نماز ادا کرتے رہتے تھے ، یہاں تک کہ آپ کے پاؤں ورم آلود ہو جاتے تھے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عثمان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔