حدیث نمبر: 3632
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ - أَوْ سَاقَاهُ - فَقِيلَ لَهُ : أَلَيْسَ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ ! قَالَ : " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا ؟ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( نوافل ادا کرتے ہوئے ) اتنا ( طویل ) قیام کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیاں ورم آلود ہو جاتی تھیں ، اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی : کیا ایسا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3632
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «مسند أبى يعلى الموصلي، قتادة 2830 معجم ابن الأعرابي 691 المعجم الأوسط للطبراني، باب العين باب الميم من اسمه محمد ، 5844 التهجد وقيام الليل لابن أبى الدنيا باب ذكر القائمين حتى تورمت أقدامهم 213»