مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ صَلَاةِ سَيِّدِنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: سیدنا رسول اللہ ﷺ کی ( نفل ) نماز
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ وَالنَّاسُ حَوْلَهُ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ لِكُلِّ نَبِيٍّ شَهْوَةً ، وَإِنَّ شَهْوَتِي فِي قِيَامِ اللَّيْلِ إِذَا قُمْتُ فَلَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ خَلْفِي ، وَإِنَّ اللَّهَ جَعَلَ لِكُلِّ نَبِيٍّ طُعْمَةً ، وَإِنَّ طُعْمَتِي هَذَا الْخُمْسُ فَإِذَا قَضَيْتُ فَهُوَ لِوُلَاةِ الْأَمْرِ مِنْ بَعْدِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ أَبِيهِ ، وَإِسْحَاقُ : لَيَّنَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَأَبُوهُ : وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد موجود تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کی دلچسپی کی چیز بنائی ہے ، اور میری دلچسپی کی چیز رات کے وقت نوافل ادا کرنا ہے ، جب میں نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوؤں ، تو کوئی شخص میرے پیچھے کھڑا نہ ہو ، اور اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو کوئی عطیہ دیا ہے ، اور میرا عطیہ یہ خمس ہے ، جب میرا انتقال ہو جائے گا ، تو یہ میرے بعد والے حکمران کو ملے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے اسحاق بن عبداللہ بن کیسان نے نقل کیا ہے ۔ ابوحاتم نے اسے کمزور قرار دیا ہے ، اور اس کے باپ کو یحیی بن معین نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔