مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكِبْرِ . باب: تکبر کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي طَرِيقٍ ، وَمَرَّتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَ لَهَا رَجُلٌ : الطَّرِيقَ ، فَقَالَتْ : الطَّرِيقُ ثَمَّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعُوهَا فَإِنَّهَا جَبَّارَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَرَمَاهُ بِالْكَذِبِ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ وَضَعَّفَهُ بِرَاوٍ آخَرَ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی راستے سے گزر رہے تھے ، وہاں سے ایک سیاہ فام عورت بھی گزر رہی تھی ، ایک صاحب نے اُس سے کہا: راستہ دے دو ! اُس عورت نے کہا: راستہ موجود تو ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے رہنے دو ! کیونکہ یہ تکبر کا شکار ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے ، امام أحمد نے اُسے ضعیف قرار دیا ہے ، اور اُس پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا ہے ، یہی روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، اور ایک اور راوی کے حوالے سے ، اُنہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔