مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكِبْرِ . باب: تکبر کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ آخِذًا بِيَدِ أَبِي مُوسَى فِي بَعْضِ سِكَكِ الْمَدِينَةِ ، فَأَتَى عَلَى سَائِلَةٍ فِي ظَهْرِ الطَّرِيقِ تَسْفِي الرِّيَاحُ فِي وَجْهِهَا ، فَقَالَ لَهَا أَبُو مُوسَى : تَنَحِّي عَنْ سَنَنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ لَهُ : هَذَا الطَّرِيقُ لَهُ مَعْرَضًا ، فَلْيَأْخُذْ حَيْثُ شَاءَ ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَبِي مُوسَى حَتَّى كَبَا لِذَلِكَ ، وَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا مُوسَى ، اشْتَدَّ عَلَيْكَ مَا قَالَتْ هَذِهِ السَّائِلَةُ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ حِينَ اسْتَخَفَّتْ بِمَا قُلْتُ لَهَا مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ : " لَا تُكَلِّمْهَا فَإِنَّهَا جَبَّارَةٌ " ، فَقُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي ، مَا هَذِهِ فَتَكُونُ جَبَّارَةً ؟ فَقَالَ : " إِنْ لَا يَكُونُ ذَلِكَ فِي قُدْرَتِهَا فَإِنَّهُ فِي قَلْبِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بِلَالُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ . ¤سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت منقول ہے : ” ایک مرتبہ مدینہ منورہ کی گلی سے گزرتے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ، کہ اس دوران راستے میں ایک مانگنے والی سامنے آ گئی ، جس کا حال انتہائی برا تھا ، سیدنا ابوموسیٰ اشعری نے اُس عورت سے کہا: تم اللہ کے رسول کے راستے سے ہٹ جاؤ ! اس عورت نے کہا: یہ راستہ کشادہ ہے ، وہ جس طرف سے چاہیں ( راستہ ) لے سکتے ہیں ، یہ بات سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کو بہت ناگوار گزری ، قریب تھا کہ وہ اُس عورت کی پٹائی کرتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کے چہرے سے ، اُن کی ناگواری کا اندازہ ہو گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابوموسیٰ ! اس مانگنے والی عورت نے جو کہا: ہے ، ( کیا ) وہ تم پر گراں گزرا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ ، آپ پر قربان ہوں ! میں نے اللہ کے رسول کے معاملے کے بارے میں ، اس عورت کو جو کہا: تھا جب اس نے اس بات کی تخفیف کی ، تو یہ بات مجھ پر گراں گزری ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اس کے ساتھ کام نہ کرو ! کیونکہ یہ تکبر کرنے والی ہے ، میں نے عرض کی : میرے ماں باپ قربان ہوں ، یہ کیسے تکبر کرنے والی ہو سکتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ چیز اگرچہ اس کی قدرت میں نہیں ہے ، لیکن یہ چیز اس کے دل میں پائی جاتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بلال بن ابوبردہ ہے ۔