مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكِبْرِ . باب: تکبر کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 361
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ أَنَّهُ مَرَّ فِي السُّوقِ وَعَلَيْهِ حُزْمَةٌ مِنْ حَطَبٍ ، فَقِيلَ لَهُ : مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا وَقَدْ أَغْنَاكَ اللَّهُ عَنْ هَذَا ؟ قَالَ : أَرَدْتُ أَنْ أَدْمَغَ الْكِبْرَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ فِي قَلْبِهِ خَرْدَلَةٌ مِنْ كِبْرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ بازار سے گزرے ، تو انہوں نے لکڑیوں کا گٹھا اٹھایا ہوا تھا ، اُن سے دریافت کیا گیا : آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بے نیاز کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں تکبر کو کچل دوں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جس کے دل میں رائی جتنا تکبر موجود ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔