حدیث نمبر: 3613
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ فِي لَيْلَةٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ مِائَةَ آيَةٍ كُتِبَ لَهُ قُنُوتُ لَيْلَةٍ ، وَمَنْ قَرَأَ مِائَتَيْ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ أَرْبَعَمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْمُخْبِتِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ أَلْفَ آيَةٍ أَصْبَحَ وَلَهُ قِنْطَارٌ - أَلْفٌ وَمِائَتَا أُوقِيَّةٍ ، الْأُوقِيَّةُ خَيْرٌ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ - ، وَمَنْ قَرَأَ أَلْفَيْ آيَةٍ كَانَ مِنَ الْمُوجِبِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي الْعَيْزَارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص رات میں ، دس آیات کی تلاوت کرے گا ، اسے ” غافلین “ میں نوٹ نہیں کیا جائے گا ، جو شخص ایک سو آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کے لئے رات بھر کی عبادت کا ثواب نوٹ کیا جائے گا ، جو شخص دو سو آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کا نام ” قانتین “ میں نوٹ کیا جائے گا ، جو شخص چار سو آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کا نام ” مخبطین “ میں نوٹ کیا جائے گا ، جو شخص ایک ہزار آیات کی تلاوت کرے گا ، تو اس کے لئے ” قنطار “ کا ثواب نوٹ کیا جائے گا ، جو ایک ہزار دو سو ( یعنی بارہ سو ) اوقیہ کا ہو گا ، اور ہر اس چیز سے بہتر ہو گا ، جو آسمان اور زمین کے درمیان موجود ہے ، جو شخص دو ہزار آیات کی تلاوت کرے گا ، تو وہ ” موجبین “ میں سے ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عقبہ بن ابوالعیزار ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3613
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف