حدیث نمبر: 3612
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ عَشْرَ آيَاتٍ فِي لَيْلَةٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ مِائَةَ آيَةٍ كُتِبَ لَهُ قُنُوتُ لَيْلَةٍ ، وَمَنْ قَرَأَ مِائَتَيْ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ أَرْبَعَمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْعَابِدِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ خَمْسَمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْحَافِظِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ سِتَّمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْخَاشِعِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ ثَمَانِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْمُخْبِتِينِ ، وَمَنْ قَرَأَ أَلْفَ آيَةٍ أَصْبَحَ لَهُ قِنْطَارٌ وَالْقِنْطَارُ أَلْفٌ وَمِائَتَا أُوقِيَّةٍ خَيْرٌ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، - أَوْ قَالَ : خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ - وَمَنْ قَرَأَ أَلْفَيْ آيَةٍ كَانَ مِنَ الْمُوجِبِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي الْعَيْزَارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص رات میں دس آیات کی تلاوت کر لے گا ، اس کا نام ” غافلوں “ میں نوٹ نہیں کیا جائے گا ، اور جو شخص ایک سو آیات کی تلاوت کر لے گا ، اس کے لئے رات بھر کی عبادت کا ثواب نوٹ کیا جائے گا ، جو شخص دو سو آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کا شمار ” قانتین “ میں کیا جائے گا ، جو شخص چار سو آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کا نام ” عابدین “ میں شمار کیا جائے گا ، جو شخص پانچ سو آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کا شمار ” حافظین “ میں کیا جائے گا ، جو شخص چھ سو آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کا شمار ” خاشعین “ میں کیا جائے گا ، جو شخص آٹھ سو آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کا شمار ” مخبطین “ میں کیا جائے گا ، جو شخص ایک ہزار آیات کی تلاوت کرے گا ، اُسے ” قنطار “ نصیب ہو گا ، اور ایک ” قنطار “ ایک ہزار دو سو ( یعنی بارہ سو ) اوقیہ کا ہو گا ، اور ہر اس چیز سے زیادہ بہتر ہو گا ، جو آسمان اور زمین کے درمیان موجود ہے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہر اس چیز سے زیادہ بہتر ہو گا ، جس پر سورج طلوع ہوتا ہے ، اور جو شخص دو ہزار آیات کی تلاوت کرے گا ، وہ ” موجبین “ میں سے ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عقبہ بن ابوالعیزار ہے ، اور یہ راوی ” ضعیف “ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3612
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف