مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ كَمْ يَقْرَأُ فِي اللَّيْلِ . باب: رات کی نماز میں کتنی تلاوت کی جائے ؟
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَرَأَ مِائَةَ آيَةٍ فِي لَيْلَةٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ مِائَتَيْ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ أَلْفَ آيَةٍ إِلَى خَمْسِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ لَهُ قِنْطَارٌ مِنَ الْأَجْرِ الْقِيرَاطُ مِنَ الْقِنْطَارِ مِثْلُ التَّلِّ الْعَظِيمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَالْغَالِبُ عَلَيْهِ الضَّعْفُ ، وَقَدِ اخْتَلَفَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَابْنِ مَعِينٍ فِيهِ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص رات میں ایک سو آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کا نام ” غافلین “ میں شمار نہیں کیا جائے ، جو شخص دو سو آیات کی تلاوت کرے گا ، اس کا نام ” قانتین “ میں نوٹ کیا جائے گا ، جو شخص ایک ہزار سے لے کر پانچ سو آیات تک کی تلاوت کرے گا ، اس کے لئے اجر کا ایک ” قنطار “ نوٹ کیا جائے گا ، اور اس ” قنطار “ میں سے ایک قیراط ، بڑے ٹیلے جتنا ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے ، جس پر ضعیف ہونا غالب ہے ، اس راوی کے بارے میں امام أحمد اور امام یحیی بن معین کا قول مختلف ہے ۔