حدیث نمبر: 3573
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ أَكْسَفُ أَحْوَلُ أَوْقَصُ أَحْنَفُ أَفْحَمُ أَعْسَرُ أَرْسَحُ أَفْحَجُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِمَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ ؟ فَلَمَّا أَخْبَرَهُ قَالَ : إِنِّي أُعَاهِدُ اللَّهَ أَنْ لَا أَزِيدَ عَلَى فَرِيضَةٍ قَالَ : " لِمَ ؟ " قَالَ : لِأَنَّهُ خَلَقَنِي أَكَسَفَ أَحْوَلَ أَفْحَمَ أَعْسَرَ أَرْسَحَ أَفْحَجَ ثُمَّ أَدْبَرَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ أَيْنَ الْعَاتِبُ عَلَى رَبِّهِ ، عَاتَبَ رَبًّا كَرِيمًا فَاعْتِبْهُ قَالَ : قُلْ لَهُ : أَلَا تَرْضَى أَنْ تُبْعَثَ فِي صُورَةِ جِبْرِيلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ فَبَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الرَّجُلِ فَقَالَ : " إِنَّكَ عَاتَبْتَ رَبًّا كَرِيمًا فَأَعْتَبَكَ أَفَلَا تَرْضَى أَنْ يَبْعَثَكَ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى صُورَةِ جِبْرِيلَ ؟ " قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ! ! قَالَ : فَإِنِّي أُعَاهِدُ اللَّهَ أَنْ لَا يَقْوَى جَسَدِي عَلَى شَيْءٍ يَرْضَاهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَّا حَمَلْتُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ كَبِيرٍ اللَّيْثِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، جو برے حال میں تھا ، بھینگا تھا ، اس کی گردن چھوٹی تھی ، لنگڑا تھا ، کالا تھا ، بائیں ہاتھ سے کام کرنے والا تھا ، اس کے کندھوں پر گوشت کم تھا ، اس کے زانوں کے درمیان کی جگہ کشادہ تھی ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کیا چیز فرض قرار دی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بتایا ، تو اس نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی خاطر اس کو باقاعدگی سے کروں گا ، اور فرض میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ اس نے کہا: کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے برے حال والا ، بھینگا ، کالا ، بائیں ہاتھ سے کام کرنے والا ، کندھوں پر تھوڑے گوشت والا ، زانوں کے درمیان کشادہ جگہ والا پیدا کیا ہے ، پھر وہ شخص چلا گیا ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے پروردگار سے ناراضگی کا اظہار کرنے والا شخص کہاں ہے ، اس نے کریم پروردگار پر ناراضگی کا اظہار کیا تو پروردگار نے اُس پر ناراضگی کا اظہار کیا ، سیدنا جبرائیل نے کہا: آپ اس سے کہہ دیں کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ قیامت کے دن تمہیں سیدنا جبرائیل علیہ السلام کی صورت میں زندہ کیا جائے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو پیغام بھیجا اور فرمایا : تم نے کریم پروردگار پر ناراضگی کا اظہار کیا ، تو اُس نے تم پر ناراضگی کا اظہار کیا ، کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ، کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہیں جبرائیل کی شکل و صورت میں زندہ کرے ؟ اس نے کہا: جی ہاں ! یا رسول اللہ ! پھر اُس نے کہا: اب میں اللہ تعالیٰ کے نام پر یہ عہد کرتا ہوں کہ میرا جسم جو بھی ایسا عمل کرنے کی قوت رکھتا ہو ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہو ، تو میں وہ کام کروں گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علاء بن کثیر لیثی ہے ، اور وہ انتہائی ” ضعیف“ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3573
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً