حدیث نمبر: 3572
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ : أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَرَدُّوا عَلَيْهِ السَّلَامَ فَلَمَّا جَاوَزَهُمْ قَالَ رَجُلٌ لَهُمْ مِنْهُمْ : إِنِّي لَأُبْغِضُ هَذَا فِي اللَّهِ فَقَالَ أَهْلُ الْمَجْلِسِ : بِئْسَ وَاللَّهِ مَا قُلْتَ لَتُبَيِّنَنَّهُ قُمْ يَا فُلَانُ - رَجُلٌ مِنْهُمْ - فَأَخْبِرْهُ قَالَ : فَأَدْرَكَهُ رَسُولُهُمْ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي مَرَرْتُ بِمَجْلِسٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِيهِمْ فُلَانٌ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ فَرَدُّوا السَّلَامَ فَلَمَّا جَاوَزْتُهُمْ أَدْرَكَنِي رَجُلٌ مِنْهُمْ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فُلَانًا قَالَ : وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْغِضُ هَذَا الرَّجُلَ فِي اللَّهِ ، فَادْعُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسَلْهُ عَلَى مَا يُبْغِضُنِي ؟ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُ عَمَّا أَخْبَرَهُ الرَّجُلُ فَاعْتَرَفَ بِذَلِكَ وَقَالَ : لَقَدْ قُلْتُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَلِمَ تُبْغِضُهُ ؟ " قَالَ : أَنَا جَارُهُ وَأَنَا بِهِ خَابِرٌ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلَاةً قَطُّ إِلَّا هَذِهِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ الَّتِي يُصَلِّيهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ قَالَ : سَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ رَآنِي أَخَّرْتُهَا عَنْ وَقْتِهَا أَوْ أَسَأْتُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فِيهَا ؟ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : لَا قَالَ : وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ يَصُومُ قَطُّ إِلَّا هَذَا الشَّهْرَ الَّذِي يَصُومُهُ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ قَالَ : سَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ رَآنِي فَرَّطْتُ فِيهِ أَوِ انْتَقَصْتُ مِنْ حَقِّهِ شَيْئًا ؟ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : لَا قَالَ : وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ يُعْطِي سَائِلًا قَطُّ وَلَا رَأَيْتُهُ يُنْفِقُ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا فِي شَيْءٍ مِنْ سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٍ إِلَّا هَذِهِ الصَّدَقَةَ الَّتِي يُؤَدِّيهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ قَالَ : فَسَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ كَتَمْتُ مِنَ الزَّكَاةِ شَيْئًا قَطُّ أَوْ مَاكَسْتُ فِيهَا طَالِبَهَا ؟ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُمْ إِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ خَيْرٌ مِنْكَ ! " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَدْ تَقَدَّمَ وَلَكِنْ هَاهُنَا أَحْسَنُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا مُظَفَّرَ بْنَ مُدْرِكٍ وَهُوَ ثِقَةٌ ثَبْتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا ، اُس نے ان لوگوں کو سلام کیا ان لوگوں نے اسے سلام کا جواب دیا ، جب وہ ان لوگوں سے آگے گزر گیا ، تو ان میں سے ایک شخص نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی خاطر اس شخص کو ناپسند کرتا ہوں ، اہل محفل نے کہا: اللہ کی قسم ! تم نے بری بات کہی ہے ، تم نے یہ بات اُسے بیان کرنی تھی ، اے فلاں ! تم اٹھو ، انہوں نے اپنے میں سے ایک شخص سے یہ کہا: ، اور اُسے اس بارے میں بتاؤ ، اُن لوگوں کا قاصد اس دوسرے شخص کے پاس گیا ، اور اسے پہلے شخص کے قول کے بارے میں بتایا ، تو وہ شخص وہاں سے مڑا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں لوگوں کے پاس سے گزرا ، جس میں فلاں شخص بھی موجود تھا ، میں نے ان لوگوں کو سلام کیا ، ان لوگوں نے سلام کا جواب دیا ، جب میں ان لوگوں سے آگے گزر گیا ، ، تو اُن میں سے ایک شخص میرے پاس آیا ، اور اس نے مجھے یہ بات بتائی کہ فلاں شخص نے یہ کہا: ہے : اللہ کی قسم ! میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی خاطر اس شخص سے بغض رکھتا ہوں ، یا رسول اللہ ! آپ اُسے بلائیے ! اور اُس سے دریافت کیجئے کہ وہ کس وجہ سے مجھ سے بغض رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور اس سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا ، جو دوسرے شخص نے آپ کو بتائی تھی تو اس شخص نے اس کا اعتراف کر لیا اور یہ کہا: یا رسول اللہ ! میں نے یہ بات کہی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس سے کیوں بغض رکھتے ہو ؟ اُس شخص نے کہا: میں اس کا پڑوسی ہوں ، اور اس کی خبر گیری کرتا رہتا ہوں ، اللہ کی قسم ! میں نے اسے کبھی بھی کوئی ( نفل ) نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، یہ شخص صرف وہ فرض نماز ادا کرتا ہے ، جسے ہر نیک اور گنہگار ادا کر لیتا ہے ، تو دوسرے شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ اس سے پوچھیئے کہ اس نے کبھی مجھے دیکھا کہ میں نے نماز کو اس کے وقت سے تاخیر سے ادا کیا ہو ؟ یا میں نے رکوع یا سجدہ صیح طریقے سے نہ کیا ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے دریافت کیا ، تو اس نے جواب دیا : جی نہیں ! پھر اُس شخص نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے اسے کبھی بھی ( نفلی ) روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ، یہ صرف اُس مہینے کے روزے رکھتا ہے ، جس کے روزے ہر نیک اور گنہگار رکھتا ہے ، تو دوسرے شخص نے کہا: آپ اس سے پوچھیئے کہ کیا اس نے مجھے اس روزے کے بارے میں کبھی افراط کرتے ہوئے ، یا روزے کے حق میں کوئی کمی کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے دریافت کیا ، تو اس شخص نے جواب دیا : جی نہیں ! پھر اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم ! میں نے اسے کبھی بھی مانگنے والے کو کچھ دیتے ہوئے نہیں دیکھا ، اور نہ ہی کبھی اسے دیکھا ہے کہ اس نے اپنے مال میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کی ہو ، البتہ یہ وہ زکوۃ ادا کرتا ہے ، جو ہر نیک اور گنہگار ادا کرتا ہے ، تو دوسرے شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ اس سے پوچھیئے کہ کیا میں نے کبھی زکوۃ میں سے کوئی چیز روکی ہے ؟ یا میں نے کبھی زکوۃ وصول کرنے والے سے جھگڑا کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس شخص سے دریافت کیا : تو اس نے کہا: جی نہیں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم اُٹھ جاؤ ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ( جسے تم ناپسند کرتے ہو ) شاید تم سے بہتر ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، یہ روایت اس سے پہلے گزر چکی ہے ، لیکن یہاں زیادہ بہتر طور پر ذکر ہوئی ہے ، اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، مظفر بن مدرک کا معاملہ مختلف ہے ، وہ ” ثقہ “ اور ثبت ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3572
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح