مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الِاقْتِصَارِ فِي الْعَمَلِ وَالدَّوَامِ عَلَيْهِ . باب: مختصر عمل کرنا ، لیکن باقاعدگی سے کرنا
وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : كُنَّا إِذَا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ نَجْلِسُ بَعْدَهُ فَيَتَثَبَّتُ النَّاسُ فِي الْقِرَاءَةِ فَإِذَا قُمْنَا صَلَّيْنَا ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ : أَتُحَمِّلُونَ النَّاسَ مَا لَا يُحَمِّلُهُمُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ؟ تُصَلُّونَ فَيَرَوْنَ ذَلِكَ وَاجِبًا عَلَيْهِمْ إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَفِي بُيُوتِكُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤مسروق بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے اُٹھ جانے کے بعد ہم لوگ اُن کے بعد بھی بیٹھے رہتے تھے ، کچھ لوگ قرأت کرنے میں مشغول رہتے تھے ، پھر جب ہم اٹھتے تھے ، تو نفل پڑھنے لگ پڑتے تھے ، انہیں جب اس بارے میں اطلاع ملی ، تو جب ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا : کیا تم لوگوں پر وہ بوجھ لاد رہے ہو ؟ جو اللہ تعالی نے اُن پر لاگو نہیں کیا ہے ، تم رضی اللہ عنہ لوگ یوں ( نفل ) نماز ادا کرتے ہو کہ یہ سمجھتے ہو کہ یہ تم پر لازم ہے اگر تم لوگوں نے ایسا ضرور ہی کرنا ہے ، تو تم لوگ اپنے گھروں میں کیا کرو ( یعنی تم لوگ اپنے گھروں میں نوافل پڑھا کرو ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔