حدیث نمبر: 3543
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَنَا : " لَيْسَ فِي الدُّنْيَا حَسَدٌ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ : الرَّجُلُ يُغْبَطُ أَنْ يُعْطِيَهُ اللَّهُ الْمَالَ الْكَثِيرَ فَيُنْفِقُ مِنْهُ فَيُكْثِرُ النَّفَقَةَ يَقُولُ الْآخَرُ : لَوْ كَانَ لِي مَالٌ لَأَنْفَقْتُهُ مِثْلَمَا يُنْفِقُ هَذَا وَأَحْسَنُ فَهُوَ يَحْسُدُهُ ، وَرَجُلٌ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَيَقُومُ اللَّيْلَ وَرَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ لَا يَعْلَمُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَحْسُدُهُ عَلَى قِيَامِهِ وَعَلَى مَا عَلَّمَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْقُرْآنَ فَيَقُولُ : لَوْ عَلَّمَنِي اللَّهُ مِثْلَ هَذَا لَقُمْتُ مِثْلَ مَا يَقُومُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِي إِسْنَادِهِ بَعْضُ ضَعْفٍ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ فرماتے تھے : ” دنیا میں رشک صرف دو آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے ، یہ کہ آدمی ایسے شخص پر رشک کرے جس کو اللہ تعالیٰ نے بہت سا مال دیا ہو ، اور وہ شخص اس مال میں سے ( اللہ تعالیٰ کی راہ میں ) خرچ کرتا ہو اور بکثرت خرچ کرتا ہو ، تو دوسرا شخص یہ کہے : کہ اگر میرے پاس بھی مال ہوتا ، تو میں بھی اُسے اسی طرح خرچ کرتا ، جس طرح یہ شخص خرچ کرتا ہے ، تو یوں آدمی اس پر رشک کا اظہار کرے ، اور ایک وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہو اور رات کو اس کو نوافل میں پڑھتا ہو ، دوسرا شخص جو اُس کے پہلو میں موجود ہو ، وہ قرآن کا علم نہ رکھتا ہو ، وہ اس پر رشک کرتے ہوئے یہ سوچے کہ وہ قیام کرتا ہے ، اور اللہ تعالی نے جو علم عطا کیا ہے ، اس کے حوالے سے اس پر رشک کرے اور یہ کہے کہ اگر اللہ تعالی نے مجھے بھی اس کی مانند علم عطا کیا ہوتا ، تو میں بھی اسی طرح نوافل ادا کرتا ، جس طرح یہ شخص ادا کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں بعض ایسے راوی ہیں جنہیں ضعیف قرار دیا گیا ہے
یہ روایت امام بزار نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3543
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف