مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ . باب: رشک ، صرف آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّمَا الْحَسَدُ فِي اثْنَتَيْنِ : رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ فَقَامَ بِهِ فَأَحَلَّ حَلَالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَوَصَلَ مِنْهُ أَقَارِبَهُ وَرَحِمَهُ وَعَمِلَ بِطَاعَةِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ صَلَاحٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ الْحَاكِمُ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک رشک دو آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے ، ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم عطا کیا ہو ، اور وہ اس کے ساتھ مصروف رہتا ہو ، وہ اس کے ساتھ مصروف رہے ، اس کے حلال کو حلال قرار دے اور اس کے حرام کو حرام قرار دے اور ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا ہو ، وہ اس کے ذریعے اپنے قریبی عزیزوں اور قریبی رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے ، اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری والا عمل کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی روح بن صلاح ہے ، جسے ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، امام حاکم رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ مامون ہے ۔