کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: رشک ، صرف آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے
حدیث نمبر: 3542
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّمَا الْحَسَدُ فِي اثْنَتَيْنِ : رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ فَقَامَ بِهِ فَأَحَلَّ حَلَالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَوَصَلَ مِنْهُ أَقَارِبَهُ وَرَحِمَهُ وَعَمِلَ بِطَاعَةِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ صَلَاحٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ الْحَاكِمُ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک رشک دو آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے ، ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم عطا کیا ہو ، اور وہ اس کے ساتھ مصروف رہتا ہو ، وہ اس کے ساتھ مصروف رہے ، اس کے حلال کو حلال قرار دے اور اس کے حرام کو حرام قرار دے اور ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا ہو ، وہ اس کے ذریعے اپنے قریبی عزیزوں اور قریبی رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے ، اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری والا عمل کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی روح بن صلاح ہے ، جسے ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، امام حاکم رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ مامون ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3542
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 3543
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَنَا : " لَيْسَ فِي الدُّنْيَا حَسَدٌ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ : الرَّجُلُ يُغْبَطُ أَنْ يُعْطِيَهُ اللَّهُ الْمَالَ الْكَثِيرَ فَيُنْفِقُ مِنْهُ فَيُكْثِرُ النَّفَقَةَ يَقُولُ الْآخَرُ : لَوْ كَانَ لِي مَالٌ لَأَنْفَقْتُهُ مِثْلَمَا يُنْفِقُ هَذَا وَأَحْسَنُ فَهُوَ يَحْسُدُهُ ، وَرَجُلٌ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَيَقُومُ اللَّيْلَ وَرَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ لَا يَعْلَمُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَحْسُدُهُ عَلَى قِيَامِهِ وَعَلَى مَا عَلَّمَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْقُرْآنَ فَيَقُولُ : لَوْ عَلَّمَنِي اللَّهُ مِثْلَ هَذَا لَقُمْتُ مِثْلَ مَا يَقُومُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِي إِسْنَادِهِ بَعْضُ ضَعْفٍ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ فرماتے تھے : ” دنیا میں رشک صرف دو آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے ، یہ کہ آدمی ایسے شخص پر رشک کرے جس کو اللہ تعالیٰ نے بہت سا مال دیا ہو ، اور وہ شخص اس مال میں سے ( اللہ تعالیٰ کی راہ میں ) خرچ کرتا ہو اور بکثرت خرچ کرتا ہو ، تو دوسرا شخص یہ کہے : کہ اگر میرے پاس بھی مال ہوتا ، تو میں بھی اُسے اسی طرح خرچ کرتا ، جس طرح یہ شخص خرچ کرتا ہے ، تو یوں آدمی اس پر رشک کا اظہار کرے ، اور ایک وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہو اور رات کو اس کو نوافل میں پڑھتا ہو ، دوسرا شخص جو اُس کے پہلو میں موجود ہو ، وہ قرآن کا علم نہ رکھتا ہو ، وہ اس پر رشک کرتے ہوئے یہ سوچے کہ وہ قیام کرتا ہے ، اور اللہ تعالی نے جو علم عطا کیا ہے ، اس کے حوالے سے اس پر رشک کرے اور یہ کہے کہ اگر اللہ تعالی نے مجھے بھی اس کی مانند علم عطا کیا ہوتا ، تو میں بھی اسی طرح نوافل ادا کرتا ، جس طرح یہ شخص ادا کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں بعض ایسے راوی ہیں جنہیں ضعیف قرار دیا گیا ہے
یہ روایت امام بزار نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3543
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3544
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَخْنَسِ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَنَافُسَ بَيْنِكُمْ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ : رَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ قُرْآنًا فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَيَتَّبِعُ مَا فِيهِ فَيَقُولُ رَجُلٌ : لَوْ أَنَّ اللَّهَ أَعْطَانِي مَا أَعْطَى فُلَانًا فَأَقُومُ بِهِ كَمَا يَقُومُ بِهِ ، وَرَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُ وَيَتَصَدَّقُ فَيَقُولُ رَجُلٌ مِثْلَ تِلْكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” رشک صرف دو طرح کے آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے ، ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم عطا کیا ہو اور وہ رات دن اس کے ساتھ مصروف رہتا ہو ، اور اس میں موجود احکام کی پیروی کرتا ہو ، تو آدمی یہ کہے : کہ اللہ تعالی نے اگر مجھے بھی وہ چیز عطا کی ، جو اس نے فلاں کو عطا کی ہے ، تو میں اس کے ساتھ اسی طرح مصروف رہوں گا ، جس طرح یہ شخص اس کے ساتھ مصروف رہتا ہے ، اور ایک وہ شخص جسے اللہ تعالی نے مال عطا کیا ہو ، اور وہ شخص اس کو خرچ کرتا ہو اور صدقہ کرتا ہو ، تو ( اس کو دیکھ کر رشک کرنے والا ) آدمی اس کی مانند بات کہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3544
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3545
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ : رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَتْلُوهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ فَهُوَ يَقُولُ : لَوْ أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ هَذَا لَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ فِي حَقِّهِ فَهُوَ يَقُولُ : لَوْ أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ هَذَا لَفَعَلْتُ كَمَا يَفْعَلُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” رشک صرف دو طرح کے آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے ، ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن عطا کیا ہو ، تو وہ رات دن اس کی تلاوت کرتا رہتا ہو ، تو دوسرا آدمی یہ کہے : کہ اگر مجھے بھی اس کی مانند دیا گیا ہوتا ، جو اس شخص کو دیا گیا ہے ، تو میں نے ویسا ہی کرنا تھا ، جس طرح یہ کرتا ہے ، اور ایک وہ شخص ، جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا اور وہ حق میں اس کو خرچ کرتا ہو ، تو دوسرا شخص یہ کہے : اگر مجھے بھی وہ چیز دی گئی ہوتی ، جو اس کو دی گئی ہے ، تو میں بھی ویسا ہی کرتا جس طرح یہ کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3545
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح