حدیث نمبر: 3544
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَخْنَسِ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَنَافُسَ بَيْنِكُمْ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ : رَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ قُرْآنًا فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَيَتَّبِعُ مَا فِيهِ فَيَقُولُ رَجُلٌ : لَوْ أَنَّ اللَّهَ أَعْطَانِي مَا أَعْطَى فُلَانًا فَأَقُومُ بِهِ كَمَا يَقُومُ بِهِ ، وَرَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُ وَيَتَصَدَّقُ فَيَقُولُ رَجُلٌ مِثْلَ تِلْكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” رشک صرف دو طرح کے آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے ، ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم عطا کیا ہو اور وہ رات دن اس کے ساتھ مصروف رہتا ہو ، اور اس میں موجود احکام کی پیروی کرتا ہو ، تو آدمی یہ کہے : کہ اللہ تعالی نے اگر مجھے بھی وہ چیز عطا کی ، جو اس نے فلاں کو عطا کی ہے ، تو میں اس کے ساتھ اسی طرح مصروف رہوں گا ، جس طرح یہ شخص اس کے ساتھ مصروف رہتا ہے ، اور ایک وہ شخص جسے اللہ تعالی نے مال عطا کیا ہو ، اور وہ شخص اس کو خرچ کرتا ہو اور صدقہ کرتا ہو ، تو ( اس کو دیکھ کر رشک کرنے والا ) آدمی اس کی مانند بات کہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3544
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح