مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابٌ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ . باب: رات کی ( نفل ) نماز
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَيَضْحَكُ إِلَى ثَلَاثَةِ نَفَرٍ : رَجُلٍ قَامَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَأَحْسَنَ الطَّهُورَ وَصَلَّى ، وَرَجُلٌ نَامَ وَهُوَ سَاجِدٌ - أَحْسَبُهُ قَالَ : كَانَ فِي كَتِيبَةٍ فَانْهَزَمَتْ وَهُوَ عَلَى جَوَادٍ لَوْ شَاءَ أَنْ يَذْهَبَ لَذَهَبَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَغَيْرُهُ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ لَا لِكَذِبِهِ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ تین آدمیوں پر خوش ہوتا ہے ، ایک وہ شخص جو نصف رات کے وقت اُٹھ کر اچھی طرح وضو کر کے نماز ادا کرتا ہے ، اور ایک وہ شخص جو سجدے کی حالت میں سو جاتا ہے ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے : روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایک وہ شخص جو کسی جنگی مہم میں ہو اور وہ مہم پسپا ہو جائے اور وہ شخص گھوڑے پر سوار ہو ( اور دشمن کی طرف چلا جائے ) حالانکہ اگر وہ بھی جانا چاہتا تو وہ بھی ( فرار ہو کر ) جا سکتا تھا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام بن ماجہ نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور اس کے حافظے کی خرابی کی وجہ سے اس کے بارے میں بہت کلام کیا گیا ہے ، اس کے جھوٹا ہونے کی وجہ سے کلام نہیں کیا گیا ( یعنی وہ جھوٹا نہیں ہے ) ۔