مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابٌ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ . باب: رات کی ( نفل ) نماز
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ : أَلَا إِنَّ اللَّهَ يَضْحَكُ إِلَى رَجُلَيْنِ : رَجُلٌ قَامَ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ مِنْ فِرَاشِهِ وَلِحَافِهِ وَدِثَارِهِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِمَلَائِكَتِهِ : مَا حَمَلَ عَبْدِي هَذَا عَلَى مَا صَنَعَ ؟ فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا رَجَاءَ مَا عِنْدَكَ وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدَكَ ؟ ! فَيَقُولُ : فَإِنِّي قَدْ أَعْطَيْتُهُ مَا رَجَا وَأَمَّنْتُهُ مِمَّا يَخَافُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” خبردار ! اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے ، ایک وہ شخص جو ٹھنڈی رات میں اپنے بستر ، لحاف ، چادر کو چھوڑ کر اٹھتا ہے ، وضو کرتا ہے ، اور پھر نماز کی طرف جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے : میرے اس بندے کو ایسا کرنے پر کس بات نے مجبور کیا ؟ وہ عرض کرتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! اس چیز کی امید نے جو تیرے پاس ہے ، اور اس چیز کے ڈر ، نے ، جو تیرے پاس ہے ، تو پروردگار فرماتا ہے : اس نے جو امید رکھی ہے ، وہ میں اسے عطا کرتا ہوں ، اور جس چیز سے وہ ڈرتا ہے ، اُس کے حوالے سے میں اسے امان دیتا ہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ۔