کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: رات کی ( نفل ) نماز
حدیث نمبر: 3517
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : كُتِبَ عَلَيْنَا قِيَامُ اللَّيْلِ : يَاأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا فَقُمْنَا حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُنَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الرُّخْصَةَ : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضَى إِلَى آخِرِ السُّورَةِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پہلے ہم پر رات کی ( نفل ) نماز لازم قرار دی گئی تھی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اے چادر اوڑھنے والے ! تم رات کے وقت قیام کرو ، صرف تھوڑے حصے میں نہ کرو “ ۔ تو ہم قیام کیا کرتے تھے ، یہاں تک کہ ہمارے پاؤں پھول جاتے تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے رخصت کا حکم نازل کرتے ہوئے ( ارشاد فرمایا : ) ” وہ یہ جانتا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ بیمار ہوں گے “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سورت کے آخر تک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3517
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3518
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَضْلُ صَلَاةِ اللَّيْلِ عَلَى صَلَاةِ النَّهَارِ كَفَضْلِ صَدَقَةِ السِّرِّ عَلَى صَدَقَةِ الْعَلَانِيَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” رات کی نماز کو ، دن کی نماز پر وہی فضیلت حاصل ہے ، جو پوشیدہ طور پر صدقہ کرنے کو ، اعلانیہ طور پر صدقہ کرنے پر فضیلت حاصل ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3518
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3519
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ فَإِنَّهُ دَأْبُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ ، وَهُوَ قُرْبَةٌ إِلَى رَبِّكُمْ وَمُكَفِّرٌ لِلسَّيِّئَاتِ وَمَنْهَاةٌ عَنِ الْإِثْمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْأَئِمَّةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم پر رات کے وقت قیام کرنا ( یعنی نوافل ادا کرنا ) لازم ہے ، کیونکہ یہ تم سے پہلے نیک لوگوں کا معمول ہے ، اور تمہارے پروردگار کی بارگاہ میں قربت کے حصول کا باعث ہے ، یہ گناہوں کو ختم کرنے والا ہے ، اور گناہوں سے روکنے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، عبدالملک بن شعیب بن لیث کہتے ہیں : یہ ” ثقہ “ اور مامون ہے ، ائمہ کی ایک جماعت نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3519
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3520
وَعَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ فَإِنَّهُ دَأْبُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ وَمَقْرُبَةٌ لَكُمْ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَمَكْفَرَةٌ لِلسَّيِّئَاتِ وَمَنْهَاةٌ عَنِ الْإِثْمِ وَمَطْرَدَةٌ عَنِ الْحَسَدِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي الْجَوْنِ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ عَدِيٍّ وَضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ وَأَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم پر رات کے وقت نوافل ادا کرنا لازم ہے ، کیونکہ یہ تم سے پہلے کے نیک لوگوں کا معمول ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہارے قربت کے حصول کا باعث ہے ، برائیوں کو ختم کرنے والا ہے ، گناہوں سے روکنے والا ہے ، اور جسم سے بیماری کو دور کرنے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن سلیمان بن ابوالجون ہے ، جسے دحیم ، ابن حبان اور ابن عدی نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، امام ابوداؤد اور ابوحاتم نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3520
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «المعجم الاوسط للطبراني باب الباء من اسمه بكر 3331 المعجم الكبير للطبراني باب الصاد ما اسند ابو امامة رجاء بن حيوة ، 7298 صحيح ابن خزيمة جماع ابواب ذكر الوتر وما فيه من السنن جماع ابواب صلاة التطوع بالليل باب التحريض على قيام الليل إذ هو داب الصالحين وقربة إلى حديث 1065 المستدرك على الصحيحين للحاكم من كتاب صلاة التطوع ، 1091 السنن الكبرى للبيهقى كتاب الصلاة جماع ابواب صلاة التطوع باب الترغيب فى قيام الليل 4316»
حدیث نمبر: 3521
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَعْجَبَهُ نَحْوُ رَجُلٍ أَمَرَهُ بِالصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ الْبَصْرِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، رَوَى عَنْ أَنَسٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : ذَكَرَ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ يَحْيَى بْنَ عُثْمَانَ الْقُرَشِيَّ وَلَكِنَّهُ ذَكَرَهُ فِي الطَّبَقَةِ الثَّالِثَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی شخص کا طور طریقہ پسند آتا تھا ، تو آپ اُسے نماز پڑھنے کا حکم دیتے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عثمان قرشی بصری ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے یحیی بن عثمان قرشی کا ذکر کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، لیکن انہوں نے اس کا ذکر تیسرے طبقے میں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3521
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3522
وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نُصَلِّيَ مِنَ اللَّيْلِ مَا قَلَّ أَوْ كَثُرَ وَنَجْعَلَ آخِرَ ذَلِكَ وِتْرًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى ، وَلِلْبَزَّارِ فِي رِوَايَةٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُصَلِّيَ كُلَّ لَيْلَةٍ بَعْدَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ نَحْوَهُ ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم رات کے وقت ( نفل ) نماز ادا کریں ، خواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ ہو ، اور ہم اس کے آخر میں وتر ادا کریں ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم روزانہ رات کے وقت فرض نماز کے بعد ( نفل ) نماز ادا کریں “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے اور اس کی سند میں ” ضعف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3522
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3523
وَعَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَدَعَنَّ صَلَاةَ اللَّيْلِ وَلَوْ حَلْبَ شَاةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم رات کی ( نفل ) نماز کو ہرگز ترک نہ کرنا ، خواہ وہ اتنی دیر کے لئے ہو ، جتنی دیر میں بکری کا دودھ دوہا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3523
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3524
وَعَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ قَالَ : قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْجِبُهُ التَّهَجُّدُ مِنَ اللَّيْلِ " نِصْفَهُ ، ثُلُثَهُ ، رُبُعَهُ ، فَوَاقَ حَلْبِ نَاقَةٍ ، فَوَاقَ حَلْبِ شَاةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ : أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ، ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت تہجد ادا کرنا پسند تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3524
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3525
وَعَنِ إِيَاسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا بُدَّ مِنْ صَلَاةٍ بِلَيْلٍ وَلَوْ حَلْبَ شَاةٍ ، وَمَا كَانَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ فَهُوَ مِنَ اللَّيْلِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ایاس بن معاویہ مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رات کے وقت ( نفل ) نماز ادا کرنا ضروری ہے ، خواہ وہ بکری کا دودھ دوہنے کے عرصے جتنی ہو ، اور عشاء کی نماز کے بعد جو بھی ( نفل ) نماز ادا کی جائے گی ، وہ رات کی نماز شمار ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3525
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3526
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : تَذَكَّرْتُ قِيَامَ اللَّيْلِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " نِصْفَهُ ، ثُلُثَهُ ، رُبُعَهُ ، فَوَاقَ حَلْبِ نَاقَةٍ ، فَوَاقَ حَلْبِ شَاةٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں رات کو نوافل ادا کرنے سے متعلق بات چیت کر رہا تھا ، تو کسی نے یہ بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اس کا ( یعنی رات کا ) نصف حصہ ، یا ایک تہائی حصہ ، یا ایک چوتھائی حصہ ، یا اونٹنی کے دودھ دوہنے کے وقت جتنے وقت ، یا بکری کا دودھ دوہنے کے وقت جتنے وقت ( کے لئے نفل ادا کرنے چاہئیں ) “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3526
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3527
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِصَلَاةِ اللَّيْلِ وَرَغَّبَ فِيهَا حَتَّى قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِصَلَاةِ اللَّيْلِ وَلَوْ رَكْعَةً " ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَجُلٌ يَرْكَعُ بَعْدَ مَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ . ¤ وَقَالَ أَيْضًا : " فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ ؟ صَلَاتَانِ مَعًا ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے نفل نماز ادا کرنے کا حکم دیا تھا ، اور اس کی ترغیب دی تھی ، یہاں تک کہ آپ نے یہ ارشاد فرمایا : تم پر رات کی ( نفل ) نماز ادا کرنا لازم ہے ، خواہ وہ ایک ہی رکعت کیوں نہ ہو ، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، ایک شخص نماز کھڑی ہو جانے کے بعد نوافل ادا کر رہا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ باز آنے والے ہو ؟ کیا دو نمازیں ایک ساتھ ادا کی جائیں گی ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3527
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3528
وَعَنْ عُبَيْدَةَ الْمُلَيْكِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ لَا تَوَسَّدُوا الْقُرْآنَ وَاتْلُوهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ فِي آنَاءِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَاذْكُرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ، وَلَا تَسْتَعْجِلُوا ثَوَابَهُ فَإِنَّ لَهُ ثَوَابًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبیدہ ملیکی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ” اے اہل قرآن ! تم قرآن کو تکیہ نہ بناؤ ، رات اور دن کے مختلف اوقات میں اس کی یوں تلاوت کرو ، جو تلاوت کرنے کا حق ہے ، اور اس میں جو کچھ ذکر ہوا ہے ، اس کو یاد کرو ( یا اس سے نصیحت حاصل کرو ) تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ اور اس کے ثواب میں جلدی نہ کرنا ، اس کا ثواب ملتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3528
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3529
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : جَاءَ جِبْرَائِيلُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَجْزِيٌّ بِهِ ، أَحْبِبْ مَنْ شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ ، وَاعْلَمْ أَنَّ شَرَفَ الْمُؤْمِنِ قِيَامُ اللَّيْلِ وَعِزَّهُ اسْتِغْنَاؤُهُ عَنِ النَّاسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو دَاوُدَ وَتَكَلَّمَ فِيهِ ابْنُ عَدِيٍّ وَابْنُ حِبَّانَ بِمَا لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! جب تک آپ چاہیں زندہ رہیں ، لیکن ( ایک دن ) آپ نے مر جانا ہے ، آپ جو چاہیں عمل کریں اس کی جزا ملے گی ، آپ جس چیز سے چاہیں محبت رکھیں ، لیکن آپ کو اس سے جدا ہونا ہو گا ، اور آپ یہ بات جان لیں ! کہ مؤمن کا شرف رات کے وقت نوافل ادا کرنے میں ہے ، اور اس کی عزت لوگوں سے بے نیازی اختیار کرنے میں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زافر بن سلیمان ہے ، جسے امام أحمد یحیی بن معین اور امام ابوداؤد نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ ابن عدی اور ابن حبان نے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3529
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 3530
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ صَلَّى مِنْكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَجْهَرْ بِقِرَاءَتِهِ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي بِصَلَاتِهِ ، وَتَسْمَعُ لِقِرَاءَتِهِ ، وَإِنَّ مُؤْمِنِي الْجِنِّ الَّذِينَ يَكُونُونَ فِي الْهَوَاءِ وَجِيرَانَهُ مَعَهُ فِي مَسْكَنِهِ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ وَيَسْمَعُونَ قِرَاءَتَهُ ، وَأَنَّهُ يَطْرُدُ بِجَهْرِهِ بِقِرَاءَتِهِ عَنْ دَارِهِ وَعَنِ الدُّورِ الَّتِي حَوْلَهُ فُسَّاقَ الْجِنِّ وَمَرَدَةَ الشَّيَاطِينِ ، وَإِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي يُقْرَأُ فِي الْقُرْآنُ عَلَيْهِ خَيْمَةٌ مِنْ نُورٍ يَهْتَدِي بِهَا أَهْلُ السَّمَاءِ كَمَا يُهْتَدَى بِالْكَوْكَبِ الدُّرِّيِّ فِي لُجَجِ الْبِحَارِ وَفِي الْأَرْضِ الْقَفْرِ ، فَإِذَا مَاتَ صَاحِبُ الْقُرْآنِ رُفِعَتْ تِلْكَ الْخَيْمَةُ فَتَنْظُرُ الْمَلَائِكَةُ مِنَ السَّمَاءِ فَلَا يَرَوْنَ ذَلِكَ النُّورَ فَتَلَقَّاهُ الْمَلَائِكَةُ مِنْ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ فَتُصَلِّي الْمَلَائِكَةُ عَلَى رُوحِهِ فِي الْأَرْوَاحِ ثُمَّ تَسْتَقْبِلُ الْمَلَائِكَةَ الْحَافِظِينَ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ ثُمَّ تَسْتَغْفِرُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُ ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ تَعَلَّمَ كِتَابَ اللَّهِ ثُمَّ صَلَّى سَاعَةً مِنْ لَيْلٍ إِلَّا أَوْصَتْ بِهِ تِلْكَ اللَّيْلَةُ الْمَاضِيَةُ الْمُسْتَأْنِفَةُ أَنْ يَنْتَبِهَ لِسَاعَتِهِ وَأَنْ تَكُونَ عَلَيْهِ خَفِيفَةً فَإِذَا مَاتَ وَكَانَ أَهْلُهُ فِي جِهَازِهِ جَاءَ الْقُرْآنُ فِي صُورَةٍ حَسَنَةٍ جَمِيلَةٍ فَوَقَفَ عِنْدَ رَأْسِهِ حَتَّى يُدْرَجَ فِي أَكْفَانِهِ فَيَكُونُ الْقُرْآنُ عَلَى صَدْرِهِ دُونَ الْكَفَنِ ، فَإِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَسُوِّيَ عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَ عَنْهُ أَصْحَابُهُ أَتَاهُ مُنْكَرٌ وَنَكِيرٌ فَيُجْلِسَانِهِ فِي قَبْرِهِ فَيَجِيءُ الْقُرْآنُ حَتَّى يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمَا فَيَقُولَانِ لَهُ : إِلَيْكَ حَتَّى نَسْأَلَهُ فَيَقُولُ : لَا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ إِنَّهُ لَصَاحِبِي وَخَلِيلِي وَلَسْتُ أَخْذُلُهُ عَلَى حَالٍ فَإِنْ كُنْتُمَا أُمِرْتُمَا بِشَيْءٍ فَامْضِيَا لِمَا أُمِرْتُمَا بِهِ وَدَعَا مَكَانِي فَإِنِّي لَسْتُ أُفَارِقُهُ حَتَّى أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ثُمَّ يَنْظُرُ الْقُرْآنُ إِلَى صَاحِبِهِ فَيَقُولُ : أَنَا الْقُرْآنُ الَّذِي كُنْتَ تَجْهَرُ بِي وَتُخْفِينِي وَتُحِبُّنِي فَأَنَا حَبِيبُكَ وَمَنْ أَحْبَبْتُهُ أَحَبَّهُ اللَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ بَعْدَ مَسْأَلَةِ مُنْكَرٍ وَنَكِيرٍ هَمٌّ وَلَا حَزَنٌ ، فَيَسْأَلُهُ مُنْكَرٌ وَنَكِيرٌ وَيَصْعَدَانِ وَيَبْقَى هُوَ وَالْقُرْآنُ فَيَقُولُ : لَأَفْرِشَنَّكَ أَلْفَ فِرَاشٍ لَيِّنًا وَلَأُدَثِّرَنَّكَ دِثَارًا حَسَنًا جَمِيلًا بِمَا أَسْهَرْتُ لَيْلَكَ وَأَنْصَبْتُ نَهَارَكَ ، قَالَ : فَيَصْعَدُ الْقُرْآنُ إِلَى السَّمَاءِ أَسْرَعَ مِنَ الطَّرْفِ فَيَسْأَلُ اللَّهَ ذَلِكَ لَهُ فَيُعْطِيَهُ فَيَنْزِلُ بِهِ أَلْفُ أَلْفٍ مِنْ مُقَرَّبِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ فَيَجِيءُ الْقُرْآنُ فَيُحَيِّيهِ فَيَقُولُ : هَلِ اسْتَوْحَشْتَ ؟ مَا زِدْتُ مُنْذُ فَارَقْتُكَ أَنْ كَلَّمْتُ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ فِرَاشًا وَدِثَارًا وَمِفْتَاحًا وَقَدْ جِئْتُكَ بِهِ فَقُمْ حَتَّى تَفْرِشَكَ الْمَلَائِكَةُ ، قَالَ : فَتُنْهِضُهُ الْمَلَائِكَةُ إِنْهَاضًا لَطِيفًا ثُمَّ تَفْتَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَسِيرَةَ أَرْبَعِمِائَةِ عَامٍ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ فِرَاشٌ بِطَانَتُهُ مِنْ حَرِيرٍ أَخْضَرَ حَشْوُهُ الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ ، وَتُوضَعُ لَهُ مَرَافِقُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَرَأْسِهِ مِنَ السُّنْدُسِ الْأَخْضَرِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَيُسْرَجُ لَهُ سِرَاجَانِ مِنْ نُورِ الْجَنَّةِ عِنْدَ رَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ يُزْهِرَانِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُمَّ تُضْجِعُهُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ ، ثُمَّ يُؤْتَى بِيَاسَمِينِ الْجَنَّةِ وَتَصْعَدُ عَنْهُ وَيَبْقَى هُوَ وَالْقُرْآنُ فَيَأْخُذُ الْقُرْآنُ الْيَاسَمِينَ فَيَضَعُهُ عَلَى أَنْفِهِ غَضًّا فَيَنْشُقُهُ حَتَّى يُبْعَثَ ، وَيَرْجِعُ الْقُرْآنُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُخْبِرُهُمْ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَيَتَعَاهَدُهُ كَمَا يَتَعَاهَدُ الْوَالِدُ الشَّفِيقُ وَلَدَهُ بِالْخَيْرِ فَإِنْ تَعَلَّمَ أَحَدٌ مِنْ وَلَدِهِ الْقُرْآنَ بَشَّرَهُ بِذَلِكَ ، وَإِنْ كَانَ عَقِبُهُ عَقِبَ سُوءٍ دَعَا لَهُمْ بِالصَّلَاحِ وَالْإِقْبَالِ " أَوْ كَمَا ذَكَرَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ خَالِدٌ : ابْنُ مَعْدَانَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ ، وَمَعْنَاهُ أَنَّهُ يَجِيءُ ثَوَابُ الْقُرْآنِ كَمَا قَالَ : إِنَّ اللُّقْمَةَ تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلَ أُحُدٍ وَإِنَّمَا يَجِيءُ ثَوَابُهَا قُلْتُ : وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم میں سے جو شخص رات کے وقت ( نفل ) نماز ادا کرتا ہے ، اسے بلند آواز میں قرأت کرنی چاہیے ، کیونکہ فرشتے اس کی نماز کی اقتداء میں نماز ادا کرتے ہیں اور اس کی قرأت کو سنتے ہیں ، جنات سے تعلق رکھنے والے مؤمنین ، جو ہوا میں رہتے ہیں ، اور اس کی رہائش گاہ میں اس کے ساتھ پڑوس میں رہتے ہیں ، وہ بھی اس کی اقتداء میں نماز ادا کرتے ہیں اور اس کی تلاوت کو سنتے ہیں اور ایسا شخص بلند آواز میں قرأت کر کے اپنے گھر سے اور اپنے آس پاس کے گھروں سے فاسق جنوں اور سرکش شیاطین کو دور کر دیتا ہے ، وہ گھر جس میں قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے ، اس پر نور کا بنا ہوا خیمہ موجود ہوتا ہے ، جس کے ذریعے آسمان والے یوں رہنمائی حاصل کرتے ہیں ، جس طرح سمندر میں اور بے آب و گیاہ جگہ پر چمکدار ستارے کے ذریعے رہنمائی کی جاتی ہے ، جب قرآن کا عالم فوت ہو جاتا ہے ، تو وہ خیمہ اٹھا لیا جاتا ہے ، فرشتے آسمان سے دیکھتے ہیں انہیں وہ نور نظر نہیں آتا پھر فرشتے ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک اس شخص ( کی روح ) سے ملاقات کرتے ہیں اور فرشتے دیگر تمام ارواح میں سے اس کی روح پر رحمت نازل کرتے ہیں ، پھر اس کے ساتھ رہنے والے محافظ فرشتے اس کے سامنے آتے ہیں اور پھر فرشتے اس دن تک اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں ، جب تک اسے دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا ، جو بھی شخص اللہ تعالیٰ کی کتاب کا علم حاصل کرتا ہے ، پھر رات کی کسی ایک گھڑی میں ( نفل ) نماز ادا کرتا ہے ، تو گزرنے والی رات آگے آنے والی رات کو اُس شخص کے حوالے سے تلقین کرتی ہے کہ اس مخصوص گھڑی میں اس شخص کو بیدار کر دے ، اور وہ رات اس کے لئے ہلکی رہے ۔ جب وہ شخص فوت ہو جاتا ہے ، اور اس کے اہل خانہ اس کی تجہیز و تکفین کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں ، تو قرآن ایک خوبصورت شکل و صورت میں آتا ہے ، اس کے سرہانے کھڑا ہو جاتا ہے ، یہاں تکہ اس کے کفن کے اندر آ جاتا ہے ، اس کے سینے پر کفن سے پہلے قرآن ہوتا ہے ، جب اس شخص کو قبر میں رکھا جاتا ہے ، اور اس پر مٹی ڈال دی جاتی ہے ، اور اس کے ساتھی اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو منکر اور نکیر اس کے پاس آتے ہیں وہ اس کی قبر میں اس شخص کو بٹھاتے ہیں ، یہاں تک کہ قرآن آ جاتا ہے ، اور اس شخص اور دونوں کے فرشتوں کے درمیان آ جاتا ہے ، وہ دونوں فرشتے قرآن سے کہتے ہیں : تم ہٹ جاؤ ! تاکہ ہم اس سے سوال کریں ، قرآن کہتا ہے : جی نہیں ! رب کعبہ کی قسم ! یہ میرا ساتھی اور میرا دوست ہے ، میں اسے کسی بھی حالت میں رسوائی کا شکار نہیں کروں گا ، اگر تم دونوں کو کسی چیز کا حکم دیا گیا ہے ، تو تمہیں جو حکم دیا گیا ہے ، تم اس پر عمل کرو مجھے اپنی جگہ پر رہنے دو ، میں اس شخص سے اس وقت تک جدا نہیں ہوں گا جب تک میں اسے جنت میں داخل نہیں کروا دیتا ، پھر قرآن اپنے ساتھی کی طرف دیکھتا ہے ، اور یہ کہتا ہے : میں وہ قرآن ہوں جسے تم بلند آواز میں پڑھا کرتے تھے ، اور پست آواز میں پڑھا کرتے تھے ، اور تم مجھ سے محبت رکھتے تھے ، تو میں تمہارا حبیب ہوں ، جس شخص سے میں محبت رکھتا ہوں ، اللہ تعالی بھی اس سے محبت رکھتا ہے منکر اور نکیر کے سوال کے بعد تم پر کوئی پریشانی اور غم نہیں ہو گا ، منکر اور نکیر اس شخص سے سوال کرنے کے بعد اوپر چلے جاتے ہیں اور پھر ( قبر میں ) وہ شخص اور قرآن باقی رہ جاتے ہیں ، قرآن کہتا ہے : میں تمہارے لئے نرم بچھونا بچھواؤں گا ، اور تمہارے لئے عمدہ لباس فراہم کروں گا ، کیونکہ تم رات کے وقت جاگتے رہتے تھے ، اور دن میں مشقت کا شکار رہتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : پھر قرآن آسمان کی طرف اس سے زیادہ تیزی سے جاتا ہے جتنی دیر میں پلک جھپکتی ہے وہ اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے ، اللہ تعالی یہ چیزیں اسے عطا کرتا ہے ، پھر ایک ہزار ، ہزار ( یعنی دس لاکھ ) فرشتے جن کا تعلق چھٹے آسمان کے مقرب فرشتوں سے ہوتا ہے ، وہ اس کے ساتھ نازل ہوتے ہیں ، قرآن آتا ہے ، اس شخص کو سلام کرتا ہے ، اور دریافت کرتا ہے : کیا تمہیں وحشت محسوس ہوئی ؟ تم سے جدا ہونے کے بعد میں نے صرف اللہ تعالیٰ سے کلام کیا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے بچھونا ، اوڑھنے کی چیز اور کنجی عطا کر دی ، وہ میں تمہارے پاس لے آیا ہوں ، اب تم اُٹھو ! تاکہ فرشتے تمہارا بچھونا بچھا دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : فرشتے اسے نرمی سے اٹھاتے ہیں پھر اس شخص کی قبر کو چار سو سال کی مسافت جتنا کشادہ کر دیا جاتا ہے ، پھر اس شخص کے لئے بچھونا بچھایا جاتا ہے ، جو سبز ریشم کے استر والا ہوتا ہے ، اور اس کے اندر مشک اذفر بھری ہوئی ہوتی ہے ، اس کے پاؤں کے پاس اور سرہانے کے پاس سبز سندس اور استبرق کے تکیے رکھے جاتے ہیں ، اس کے لئے جنت کے نور سے روشن دو چراغ جلائے جاتے ہیں ، ایک اس کے سرہانے کے پاس ہوتا ہے ، اور ایک پائینتی کی طرف ہوتا ہے ، وہ ( چراغ ) قیامت کے دن تک روشنی کرتے رہیں گے ، پھر فرشتے اس شخص کو دائیں پہلو کے بل لٹا دیتے ہیں ، اس کا رخ قبلہ کی طرف ہوتا ہے ، پھر جنت کی یاسمین لائی جاتی ہے ، فرشتے اس شخص کو چھوڑ کر اوپر چلے جاتے ہیں ، اور وہ شخص اور قرآن باقی رہ جاتے ہیں ، قرآن یاسمین کو لے کر اس شخص کی ناک پر رکھتا ہے ، تو وہ شخص دوبارہ زندہ کیے جانے تک اسے سونگھتا رہے گا ، پھر قرآن اس کے اہل خانہ کی طرف جاتا ہے ، اور روزانہ انہیں خبر دیتا ہے وہ اس شخص کا یوں خیال رکھتا ہے ، جس طرح کوئی شفیق باپ ، اپنی اولاد کی بھلائی کے ہمراہ دیکھ بھال کرتا ہے ، اگر اس شخص کی اولاد میں سے کسی نے قرآن کا علم حاصل کیا ہو ، تو قرآن اس شخص کو اس حوالے سے مبارک باد دیتا ہے ، اور اگر اس کے پسماندگان میں کوئی خرابی آ گئی ہو ، تو قرآن اُن لوگوں کے لئے بہتری اور ٹھیک ہونے کی دعا کرتا ہے “ یا جس طرح بھی انہوں نے ذکر کیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : خالد بن معدان نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا ثواب آتا ہے ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ایک لقمہ قیامت کے دن اُحد پہاڑ کی مانند ہو کر آئے گا “ ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اُس کا ثواب آئے گا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایسا راوی ہے کہ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3530
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «البحر الزخار مسند البزار اول الخامس والعشرين ، 2300»
حدیث نمبر: 3531
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا خَيَّبَ اللَّهُ امْرَأً قَامَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَآلِ عِمْرَانَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو رسوائی کا شکار نہیں کرتا ، جو نصف رات کے وقت قیام کی حالت میں سورت البقرۃ اور سورت آل عمران کی تلاوت کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، وہ ” ثقہ “ ہے ، اور تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3531
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3532
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرْفَةً يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا وَبَاطِنُهَا مَنْ ظَاهِرِهَا فَقَالَ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ : لِمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لِمَنْ أَطَابَ الْكَلَامَ وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ وَبَاتَ قَائِمًا وَالنَّاسُ نِيَامٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَاللَّفْظُ لَهُ وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ : فَقَالَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جنت میں ایسے بالا خانے ہیں ، جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور جن کا اندورنی حصہ باہر سے نظر آتا ہے ، سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کس شخص کے لئے ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس شخص کے لئے جو پاکیزہ کلام کرے کھانا کھلائے اور اس وقت کھڑا ہو کر رات بسر کرے ( یعنی نوافل ادا کرے ) جب لوگ سو رہے ہوں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں امام أحمد کی سند میں یہ الفاظ ہیں : ” سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سوال کیا تھا “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3532
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 3533
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى بَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا وَظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا أَعَدَّهَا اللَّهُ لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ وَأَلَانَ الْكَلَامَ وَتَابَعَ الصِّيَامَ وَقَامَ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میں ایسے بالا خانے ہیں ، جن کا اندرونی حصہ باہر سے اور بیرونی حصہ اندر سے نظر آتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے یہ ان لوگوں ( یعنی اس شخص ) کے لئے تیار کیے ہیں جو کھانا کھلاتا ہے ، نرم کلام کرتا ہے ، مسلسل روزے رکھتا ہے ، اور رات کے وقت اُس وقت نوافل ادا کرتا ہے ، جب لوگ سو رہے ہوں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3533
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3534
وَعَنْ أَبِي مُعَانِقٍ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا أَعَدَّهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ وَأَدَامَ الصِّيَامَ وَصَلَّى بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا مُعَانِقٍ لَيْسَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي ثِقَاتِ التَّابِعِينَ ، وَسُئِلَ عَنْهُ الدَّارَقُطْنِيُّ فَقَالَ : مَجْهُولٌ لَا شَيْءَ . ¤
محمد محی الدین
ابومعانق اشعری ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جنت میں ایسے بالا خانے ہیں ، جن کا بیرونی حصہ اندر سے ، اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے یہ اس شخص کے لئے تیار کیے ہیں ، جو کھانا کھلاتا ہے ہمیشہ روزے رکھتا ہے ، اور رات کو اس وقت نماز ادا کرتا ہے ، جب لوگ سو رہے ہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ ” ابومعانق “ کو صحابی ہونے کا شرف حاصل نہیں ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ ” ثقہ “ تابعین میں کیا ہے ، امام دارقطنی رحمہ اللہ سے ان کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو انہوں نے فرمایا : یہ مجہول ہے ، اور کوئی چیز نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3534
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3535
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ بَاتَ لَيْلَةً فِي خِفَّةٍ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ يُصَلِّي تَدَارَكَتْ حَوْلَهُ الْحُورُ الْعِينُ حَتَّى يُصْبِحَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص کھانے پینے کے حوالے سے ہلکا ہو کر نماز ادا کرتے ہوئے رات گزارتا ہے ، صبح ہونے تک حورعین اس کے اردگرد چکر لگاتی رہتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3535
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله وما اسند عبد الله بن عباس رضي الله عنهما عكرمة عن ابن عباس ، 11682»
حدیث نمبر: 3536
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ وَيَضْحَكُ إِلَيْهِمْ وَيَسْتَبْشِرُ بِهِمُ : الَّذِي إِذَا انْكَشَفَتْ فِئَةٌ قَاتَلَ وَرَاءَهَا بِنَفْسِهِ لِلَّهِ تَعَالَى فَإِمَّا أَنْ يُقْتَلَ وَإِمَّا أَنْ يَنْصُرَهُ اللَّهُ وَيَكْفِيَهُ ، فَيَقُولُ : انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا كَيْفَ صَبَرَ لِي بِنَفْسِهِ ! ؟ وَالَّذِي لَهُ امْرَأَةٌ حَسَنَةٌ وَفِرَاشٌ لَيِّنٌ حَسَنٌ فَيَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ يَذَرُ شَهْوَتَهُ وَيَذْكُرُنِي وَلَوْ شَاءَ رَقَدَ ، وَالَّذِي إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ وَكَانَ مَعَهُ رَكْبٌ فَسَهِرُوا ثُمَّ هَجَعُوا فَقَامَ مِنَ السَّحَرِ فِي ضَرَّاءَ سِرًّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین لوگ ایسے ہیں ، جن سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتا ہے ، انہیں دیکھ کے مسکرا دیتا ہے ، اور انہیں دیکھ کے خوش ہوتا ہے ، وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنی ذات کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتا ہے ، یا شہید ہو جاتا ہے ، یا پھر اللہ تعالیٰ اُس کی مدد کرتا ہے ، اور اس کی کفایت کر دیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : میرے اس بندے کا جائزہ لو ! اس نے میری خاطر کیسے اپنی ذات کے حوالے سے صبر سے کام لیا ہے ، اور وہ شخص جس کی خوبصورت بیوی ہو اور نرم اور عمدہ بچھونا ہو اور وہ رات کے وقت کھڑا ہو کر ( نوافل ادا کرے ) تو اللہ فرماتا ہے : اس نے اپنی خواہش کو ترک دیا ہے ، اور میرا ذکر کر رہا ہے ، اگر یہ چاہتا تو یہ سو جاتا اور وہ شخص جو سفر کر رہا ہو ، اس کے ساتھی اور بھی سوار ہوں ، وہ لوگ سو جائیں ، اور وہ شخص سحری کے وقت تنگی یا آسانی ہر حالت میں نوافل ادا کرتا رہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3536
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3537
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَرْفَعُهُ قَالَ : " ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : رَجُلٌ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتْلُو كِتَابَ اللَّهِ ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ يُخْفِيهَا مِنْ شِمَالِهِ ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَانْهَزَمَ أَصْحَابُهُ فَاسْتَقْبَلَ الْعَدُوَّ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ : " الَّذِي كَانَ فِي سَرِيَّةٍ " فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” تین لوگ ایسے ہیں ، جن سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتا ہے ، ایک وہ شخص جو رات کے وقت کھڑا ہو کر اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کرتا ہے ایک وہ شخص جو یوں صدقہ کرتا ہے کہ اسے بائیں ہاتھ سے بھی پوشیدہ رکھتا ہے ، اور ایک وہ شخص جو کسی مہم میں ہو ، اس کے ساتھی پسپا ہو جائیں ، اور وہ دشمن کے سامنے چلا جائے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا صرف وہ حصہ نقل کیا ہے ، جو جنگی مہم کے بارے میں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3537
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3538
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ رَجُلَيْنِ : رَجُلٌ ثَارَ عَنْ وِطَائِهِ وَلِحَافِهِ بَيْنَ أَهْلِهِ وَحُبِّهِ إِلَى صَلَاتِهِ فَيَقُولُ رَبُّنَا : يَا مَلَائِكَتِي انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي ثَارَ مِنْ فِرَاشِهِ وَوِطَائِهِ مِنْ بَيْنِ حُبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِاخْتِصَارِ التَّصَدُّقِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہمارا پروردگار ، دو ایسے افراد پر خوش ہوتا ہے ، ایک وہ شخص جو اپنے بستر ، لحاف ، اپنے اہل خانہ اور اپنی محبوب چیز کو چھوڑ کر نماز کی طرف جاتا ہے ، ہمارا پروردگار فرماتا ہے : اے میرے فرشتو ! تم میرے بندے کا جائزہ لو ، جس نے اپنا بستر اپنا لحاف اپنی محبوب چیز اور اپنے اہل خانہ کو چھوڑا ، اور نماز کی طرف آ گیا ، اُس چیز کی طرف رغبت رکھتے ہوئے ، جو میرے پاس موجود ہے ، اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے ، جو میرے پاس ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، جس میں صدقہ کرنے کا ذکر اختصار کے ساتھ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3538
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 3539
وَلَهُ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ نَحْوُهُ مَوْقُوفًا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَرَجُلٌ لَا يَعْلَمُ بِهِ أَحَدٌ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ وَصَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَمِدَ اللَّهَ وَاسْتَفْتَحَ الْقِرَاءَةَ فَيَضْحَكُ اللَّهُ مِنْهُ يَقُولُ : انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي لَا يَرَاهُ أَحَدٌ غَيْرِي " . ¤ وَفِيهِ أَبُو عُبَيْدَةَ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
ان صحابی کے حوالے سے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند ” موقوف “ روایت کے طور پر
یہ روایت نقل کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” اور وہ شخص جو رات کو کھڑا ہوتا ہے ، اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا ہے ، وہ اچھی طرح وضو کرتا ہے ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہے ، اور قرآءت کرنی شروع کر دیتا ہے ، تو اللہ تعالی اس شخص پر خوش ہوتا ہے ، اور فرماتا ہے : میرے اس بندے کی طرف دیکھو ! اسے میرے علاوہ اور کوئی نہیں دیکھ رہا ہے “ ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوعبیدہ ہے ، اور اس نے اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3539
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 3540
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ : أَلَا إِنَّ اللَّهَ يَضْحَكُ إِلَى رَجُلَيْنِ : رَجُلٌ قَامَ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ مِنْ فِرَاشِهِ وَلِحَافِهِ وَدِثَارِهِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِمَلَائِكَتِهِ : مَا حَمَلَ عَبْدِي هَذَا عَلَى مَا صَنَعَ ؟ فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا رَجَاءَ مَا عِنْدَكَ وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدَكَ ؟ ! فَيَقُولُ : فَإِنِّي قَدْ أَعْطَيْتُهُ مَا رَجَا وَأَمَّنْتُهُ مِمَّا يَخَافُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” خبردار ! اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے ، ایک وہ شخص جو ٹھنڈی رات میں اپنے بستر ، لحاف ، چادر کو چھوڑ کر اٹھتا ہے ، وضو کرتا ہے ، اور پھر نماز کی طرف جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے : میرے اس بندے کو ایسا کرنے پر کس بات نے مجبور کیا ؟ وہ عرض کرتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! اس چیز کی امید نے جو تیرے پاس ہے ، اور اس چیز کے ڈر ، نے ، جو تیرے پاس ہے ، تو پروردگار فرماتا ہے : اس نے جو امید رکھی ہے ، وہ میں اسے عطا کرتا ہوں ، اور جس چیز سے وہ ڈرتا ہے ، اُس کے حوالے سے میں اسے امان دیتا ہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3540
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله ، عبد الله بن مسعود الهذلي خطبة ابن مسعود ، 8412»
حدیث نمبر: 3541
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ لَيَضْحَكُ إِلَى ثَلَاثَةِ نَفَرٍ : رَجُلٍ قَامَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَأَحْسَنَ الطَّهُورَ وَصَلَّى ، وَرَجُلٌ نَامَ وَهُوَ سَاجِدٌ - أَحْسَبُهُ قَالَ : كَانَ فِي كَتِيبَةٍ فَانْهَزَمَتْ وَهُوَ عَلَى جَوَادٍ لَوْ شَاءَ أَنْ يَذْهَبَ لَذَهَبَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَغَيْرُهُ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ لَا لِكَذِبِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ تین آدمیوں پر خوش ہوتا ہے ، ایک وہ شخص جو نصف رات کے وقت اُٹھ کر اچھی طرح وضو کر کے نماز ادا کرتا ہے ، اور ایک وہ شخص جو سجدے کی حالت میں سو جاتا ہے ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے : روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایک وہ شخص جو کسی جنگی مہم میں ہو اور وہ مہم پسپا ہو جائے اور وہ شخص گھوڑے پر سوار ہو ( اور دشمن کی طرف چلا جائے ) حالانکہ اگر وہ بھی جانا چاہتا تو وہ بھی ( فرار ہو کر ) جا سکتا تھا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام بن ماجہ نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور اس کے حافظے کی خرابی کی وجہ سے اس کے بارے میں بہت کلام کیا گیا ہے ، اس کے جھوٹا ہونے کی وجہ سے کلام نہیں کیا گیا ( یعنی وہ جھوٹا نہیں ہے ) ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3541
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف