مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنِ ادَّعَى غَيْرَ نَسَبِهِ ، أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ . باب: جو شخص اپنے نسب کے علاوہ کا دعوی کرے یا اپنے آزاد کرنے والے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف نسبت ولاء قائم کرے اُس کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ قَدْرِ سَبْعِينَ عَامًا - أَوْ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا - " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” وہ شخص ، جو اپنے باپ کی بجائے ، کسی اور کی اولاد ہونے کا دعوی کرے ، وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا ، اگرچہ اس کی خوشبو 70 سال کے فاصلے سے محسوس ہو جاتی ہے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ستر سال کی مسافت کے فاصلے سے محسوس ہو جاتی ہے “
۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” پانچ سو سال کی مسافت کے فاصلے سے محسوس ہو جاتی ہے “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔