حدیث نمبر: 351
وَعَنْ أَيُّوبَ بْنِ عُدَيِّ بْنِ عُدَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ - أَوْ عَمِّهِ - : أَنَّ مَمْلُوكًا كَانَ يُقَالُ لَهُ : " كَيْسَانُ " ، فَسَمَّى نَفْسَهُ قَيْسًا ، وَادَّعَى إِلَى مَوْلَاهُ وَلَحِقَ بِالْكُوفَةِ ، فَرَكِبَ أَبُوهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، ابْنِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِي (وَادَّعَى) ، ثُمَّ رَغِبَ عَنِّي وَادَّعَى إِلَى مَوْلَايَ وَمَوْلَاهُ ، فَقَالَ عُمَرُ لِزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ : أَمَا تَعْلَمُ أَنَّا كُنَّا نَقْرَأُ : ( لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ ؟ ) فَقَالَ زَيْدٌ : بَلَى . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : انْطَلِقْ فَاقْرِنِ ابْنَكَ إِلَى بَعِيرِكَ ، ثُمَّ انْطَلِقْ فَاضْرِبْ بَعِيرَكَ سَوْطًا وَابْنَكَ سَوْطًا حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ أَهْلَكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَيُّوبُ بْنُ عُدَيٍّ وَأَبُوهُ أَوْ عَمُّهُ لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمَا . ¤
محمد محی الدین

ایوب بن عدی بن عدی ، اپنے والد ، یا شاید اپنے چچا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک غلام تھا ، جس کا نام کیسان تھا ، اُس نے اپنا نام قیس رکھ لیا اور اپنے آقا کی اولاد ہونے کا دعوی کر دیا اور کوفہ چلا گیا ، اُس کا باپ سوار ہو کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور بولا: اے امیرالمؤمنین ! میرا بیٹا ، جو میرے ہاں پیدا ہوا ؟ اب وہ کسی اور کے نسب کا دعوی کرتا ہے ، اس نے مجھ سے منہ موڑ لیا ہے اور اپنی نسبت میرے اور اس کے آقا کی طرف کر دی ہے ( یعنی وہ خود کو میرے آقا کا بیٹا ظاہر کرتا ہے ) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا : کیا تم یہ بات جانتے ہو ؟ کہ ہم یہ آیت پڑھا کرتے تھے : ” تم لوگ اپنے آباؤ اجداد سے منہ موڑو ! کیونکہ یہ چیز تمہارا کفر شمار ہو گی “ تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اُس شخص سے کہا: تم جاؤ ! اور اپنے بیٹے کو اپنے اونٹ پر باندھو ! اور پھر روانہ ہو جاؤ ، ایک کوڑا ، اپنے اونٹ کو مارنا ، اور ایک کوڑا ، اپنے بیٹے کو مارنا ، یہاں تک کہ تم اُسے ساتھ لے کر اپنے گھر آ جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور ایوب بن عدی ، اُس کے والد ، یا اُس کے چچا کا ذکر کرتے ہوئے ، میں نے کسی کو نہیں دیکھا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 351
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 4807»