مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنِ ادَّعَى غَيْرَ نَسَبِهِ ، أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ . باب: جو شخص اپنے نسب کے علاوہ کا دعوی کرے یا اپنے آزاد کرنے والے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف نسبت ولاء قائم کرے اُس کا بیان
وَعَنْ أَيُّوبَ بْنِ عُدَيِّ بْنِ عُدَيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ - أَوْ عَمِّهِ - : أَنَّ مَمْلُوكًا كَانَ يُقَالُ لَهُ : " كَيْسَانُ " ، فَسَمَّى نَفْسَهُ قَيْسًا ، وَادَّعَى إِلَى مَوْلَاهُ وَلَحِقَ بِالْكُوفَةِ ، فَرَكِبَ أَبُوهُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، ابْنِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِي (وَادَّعَى) ، ثُمَّ رَغِبَ عَنِّي وَادَّعَى إِلَى مَوْلَايَ وَمَوْلَاهُ ، فَقَالَ عُمَرُ لِزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ : أَمَا تَعْلَمُ أَنَّا كُنَّا نَقْرَأُ : ( لَا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ فَإِنَّهُ كُفْرٌ بِكُمْ ؟ ) فَقَالَ زَيْدٌ : بَلَى . فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : انْطَلِقْ فَاقْرِنِ ابْنَكَ إِلَى بَعِيرِكَ ، ثُمَّ انْطَلِقْ فَاضْرِبْ بَعِيرَكَ سَوْطًا وَابْنَكَ سَوْطًا حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ أَهْلَكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَيُّوبُ بْنُ عُدَيٍّ وَأَبُوهُ أَوْ عَمُّهُ لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمَا . ¤ایوب بن عدی بن عدی ، اپنے والد ، یا شاید اپنے چچا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ایک غلام تھا ، جس کا نام کیسان تھا ، اُس نے اپنا نام قیس رکھ لیا اور اپنے آقا کی اولاد ہونے کا دعوی کر دیا اور کوفہ چلا گیا ، اُس کا باپ سوار ہو کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور بولا: اے امیرالمؤمنین ! میرا بیٹا ، جو میرے ہاں پیدا ہوا ؟ اب وہ کسی اور کے نسب کا دعوی کرتا ہے ، اس نے مجھ سے منہ موڑ لیا ہے اور اپنی نسبت میرے اور اس کے آقا کی طرف کر دی ہے ( یعنی وہ خود کو میرے آقا کا بیٹا ظاہر کرتا ہے ) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا : کیا تم یہ بات جانتے ہو ؟ کہ ہم یہ آیت پڑھا کرتے تھے : ” تم لوگ اپنے آباؤ اجداد سے منہ موڑو ! کیونکہ یہ چیز تمہارا کفر شمار ہو گی “ تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اُس شخص سے کہا: تم جاؤ ! اور اپنے بیٹے کو اپنے اونٹ پر باندھو ! اور پھر روانہ ہو جاؤ ، ایک کوڑا ، اپنے اونٹ کو مارنا ، اور ایک کوڑا ، اپنے بیٹے کو مارنا ، یہاں تک کہ تم اُسے ساتھ لے کر اپنے گھر آ جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور ایوب بن عدی ، اُس کے والد ، یا اُس کے چچا کا ذکر کرتے ہوئے ، میں نے کسی کو نہیں دیکھا ہے ۔