مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنِ ادَّعَى غَيْرَ نَسَبِهِ ، أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ . باب: جو شخص اپنے نسب کے علاوہ کا دعوی کرے یا اپنے آزاد کرنے والے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف نسبت ولاء قائم کرے اُس کا بیان
حدیث نمبر: 350
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ ادَّعَى نَسَبًا لَا يُعْرَفُ كَفَرَ بِاللَّهِ ، وَانْتِفَاءٌ مِنْ نَسَبٍ - وَإِنْ دَقَّ - كُفْرٌ بِاللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص کسی ایسے نسب کا دعویٰ کرے ، جو معروف نہ ہو ، تو ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے کفر کا مرتکب ہوتا ہے ، کیونکہ نسب سے نفی کرنا خواہ وہ کتنا ہی ہلکا کیوں نہ ہو ، یہ اللہ تعالیٰ کا کفر ہے “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور وہ ضعیف ہے ، یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے ، اور وہ متروک ہے ۔