حدیث نمبر: 3499
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ : مَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ ، فَأَكُونُ أَنَا سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ وَلِسَانَهُ الَّذِي يَنْطِقُ بِهِ وَقَلْبَهُ الَّذِي يَعْقِلُ بِهِ ، فَإِذَا دَعَانِي أَجَبْتُهُ وَإِذَا سَأَلَنِي أَعْطَيْتُهُ وَإِذَا اسْتَنْصَرَنِي نَصْرَتُهُ وَأَحَبُّ مَا تَعَبَّدَنِي عَبْدِي بِهِ النُّصْحُ لِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرا بندہ نوافل کے ذریعے مسلسل میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ میں اُس سے محبت رکھنے لگتا ہوں ، اور میں اس کی سماعت بن جاتا ہوں ، جس کے ذریعے وہ سنتا ہے ، اس کی بصارت بن جاتا ہوں ، جس کے ذریعے وہ دیکھتا ہے ، اس کی زبان بن جاتا ہوں ، جس کے ذریعے وہ گفتگو کرتا ہے ، اس کا دل بن جاتا ہوں ، جس کے ذریعے وہ سمجھ بوجھ رکھتا ہے ، جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے ، تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں ، جب وہ مجھے سے کچھ مانگتا ہے ، تو میں اسے عطا کرتا ہوں ، جب وہ مجھ سے مدد مانگتا ہے ، تو میں اس کی مدد کرتا ہوں ، اور میرا بندہ جس چیز کے ذریعے میری عبادت کرتا ہے ، اس میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب چیز ، میرے لیے ( اعتقاد کا ) خالص ہونا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3499
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح