مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ . باب: نماز کی فضیلت کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " مَنْ آذَى وَلِيًّا فَقَدِ اسْتَحَلَّ مُحَارَبَتِي ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِمِثْلِ الْفَرَائِضِ ، وَمَا يَزَالُ الْعَبْدُ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ ، إِنَّ سَأَلَنِي أَعْطَيْتُهُ وَإِنْ دَعَانِي أَجَبْتُهُ وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ وَفَاتِهِ لِأَنَّهُ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ قَيْسِ بْنِ عُرْوَةَ ، وَثَّقَهُ أَبُو زَرْعَةَ وَالْعِجْلِيُّ وَابْنُ مَعِينٍ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ وَضَعَّفَهُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ : " فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ عَيْنَهُ الَّتِي يُبْصِرُ بِهَا وَأُذُنَهُ الَّتِي يَسْمَعُ بِهَا وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا " وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَهُ هَارُونَ بْنَ كَامِلٍ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ . ¤ قُلْتُ : وَبَقِيَّةُ طُرُقِهِ فِي كِتَابِ الزُّهْدِ فِي بَابِ مَنْ آذَى وَلِيًّا . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص میرے ولی کو اذیت پہنچاتا ہے ، وہ میرے ساتھ جنگ کو حلال کر لیتا ہے ، اور میرا بندہ فرائض جیسی کسی چیز کے ذریعے میرا قرب حاصل نہیں کرتا ، اور بندہ نوافل کے ذریعے مسلسل میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں ، اگر وہ مجھ سے کچھ مانگتا ہے ، تو میں اسے عطا کرتا ہوں ، اگر وہ مجھ سے دعا مانگتا ہے ، تو میں اسے قبول کرتا ہوں ، اور مجھے کسی بھی چیز کے حوالے سے اتنا تردد نہیں ہوتا ، جتنا تردد بندے کی وفات سے ہوتا ہے ، کیونکہ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے ، اور میں اس چیز کو ناپسند کرتا ہوں جو اسے بری لگتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالوحد بن قیس بن عروہ ہے ، جسے ابوزرعہ ، عجلی اور دو روایات میں سے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” جب میں اُس سے محبت کرنے لگتا ہوں ، تو میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں ، جس کے ذریعے وہ دیکھتا ہے ، اور اس کے کان بن جاتا ہوں ، جن کے ذریعے وہ سنتا ہے ، اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں ، جس کے ذریعے وہ پکڑتا ہے ، اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ چلتا ہے “ ۔
باقی روایت حسب سابق ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ان ( یعنی امام طبرانی ) کے استاد ہارون بن کامل کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) اس روایت کے بقیہ طرق ، زہد سے متعلق کتاب میں ، باب : جو شخص ولی کو اذیت پہنچائے ، میں آئیں گے ۔