حدیث نمبر: 3500
وَلَهُ عِنْدَهُ فِي رِوَايَةٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَهَانَ لِي وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَنِي بِالْعَدَاوَةِ ، ابْنَ آدَمَ لَنْ تُدْرِكَ مَا عِنْدِي إِلَّا بِأَدَاءِ مَا افْتَرَضْتُ عَلَيْكَ وَلَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَحَبَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ " فَذَكَرَ مَعْنَاهُ . ¤ وَفِي الطَّرِيقَيْنِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

ان صحابی کے حوالے سے ، ایک روایت میں یہ بات مذکور ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص میرے ولی کی توہین کرتا ہے ، وہ میرے ساتھ دشمنی کا اظہار کرتا ہے ، اے ابن آدم ! میرے پاس جو موجود ہے ، تم اس تک صرف اس چیز کو ادا کرنے کے ذریعے پہنچ سکتے ہو ، جو میں نے تم پر فرض قرار دی ہے ، اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میری محبت حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ میں اُس سے محبت کرنے لگتا ہوں“ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے : دونوں روایات کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3500
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني باب الصاد ما اسند ابو امامة عثمان بن ابي العائكة حديث 7758»